پاکستان نے من گھڑت بہانے کی آڑ میں سرحد پار حملوں سے متعلق بھارت کی اعلان کردہ پالیسی پر اقوام متحدہ کو خبردار کردیا،اپنی خودمختاری کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں ، پاکستانی مندوب

پاکستان نے من گھڑت بہانے کی آڑ میں سرحد پار حملوں سے متعلق بھارت کی اعلان کردہ پالیسی پر اقوام متحدہ کو خبردار کردیا،اپنی خودمختاری کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں ، پاکستانی مندوب

اقوام متحدہ ۔10اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کے ایک سینئر سفارت کار نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ بھارت نے گزشتہ سال کی بلااشتعال فوجی جارحیت کو باضابطہ سرکاری پالیسی کی شکل دے دی ہے اور وہ کسی بھی من گھڑت جواز پر پاکستان کے خلاف حملے کا یکطرفہ حق استعمال کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کے جنیوا دفاتر میں پاکستان کے مستقل مندوب طاہر اندرابی نے جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی برائے تخفیف اسلحہ و بین الاقوامی سلامتی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا اب بھی طاقت کے استعمال کے نظریے کی گرفت میں ہے۔ انہوں نے مئی 2025 میں بھارت کی فوجی کارروائی اور پاکستان کے مؤثر جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس جارحیت کو نام نہاد ’’نئے معمول‘‘ کی پالیسی میں تبدیل کر دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل صلاحیت اور عزم رکھتا ہے اور کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت خطے میں سب سے بڑی فوجی توسیع میں مصروف ہے، جس میں بین البراعظمی فاصلے تک مار کرنے والے، سمندر سے داغے جانے والے اور ہائپرسونک ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔ ان کے مطابق برآمدی کنٹرول میں امتیازی چھوٹ سے بھارت کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری اور روایتی اعتماد سازی کے اقدامات پر آخری باضابطہ مذاکرات 2012 میں ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا، تاہم اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ پاکستان معتبر کم از کم دفاعی صلاحیت کے دائرے میں مکمل دائرہ کار کی ڈیٹرنس برقرار رکھے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں محدود روایتی جنگ لڑنے اور اسے محدود رکھنے کا تصور خطرناک غلط فہمی ہے۔سفیر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے اور جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں اسٹریٹجک ضبط و تحمل کے نظام کے قیام کی پاکستان کی تجویز بدستور موجود ہے۔غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی نازک مرحلے میں ہے اور اسے برقرار رکھتے ہوئے ایک خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت ہونی چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور سرحدیں 1967 سے قبل کی بنیاد پر ہوں۔انہوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری کم کرنے، معمول کی آمدورفت بحال کرنے اور خطے کی تمام ریاستوں کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام پر بھی زور دیا۔روس یوکرین تنازع کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ جنگ چار سال سے جاری ہے اور واضح ہوچکا ہے کہ اس کا کوئی فوجی حل نہیں۔

انہوں نے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں پاکستان کے ثالثی کردار کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ خودمختار ریاستوں کے خلاف بار بار جارحیت اور اسے روکنے میں ناکامی تشویشناک رجحانات ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا حامل اور اقوام متحدہ کے منشور سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد خطے اور اس سے آگے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔عالمی سطح پر اسلحہ کنٹرول کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کو جدید بنایا جا رہا ہے، ان کے استعمال سے متعلق عسکری نظریات کو وسعت دی جا رہی ہے اور جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی خلا میں عسکری موجودگی اور اسے ہتھیاروں سے لیس کرنے کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے، جبکہ بیرونی خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔سفیر طاہر اندرابی نے کہا کہ روایتی اور جوہری نظاموں کے باہمی اتصال والے میدانوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اس پر مؤثر حفاظتی ضوابط ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر صورتحال میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ انسانوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا معاہدہ جو صرف مستقبل میں انشقاق پذیر مواد کی پیداوار پر پابندی لگائے، لیکن پہلے سے موجود ذخائر کو خارج رکھے، پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بعض جوہری طاقتوں کی جانب سے انشقاق پذیر مواد کی پیداوار دوبارہ شروع کیے بغیر جوہری وارہیڈز بڑھانے کے حالیہ اعلانات پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔پاکستان کے ذمہ دار جوہری ریاست ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں برآمدی کنٹرول کا جامع نظام موجود ہے۔ قومی کنٹرول فہرست اکتوبر 2025 میں نظرثانی کے بعد نیوکلیئر سپلائرز گروپ، میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم اور آسٹریلیا گروپ کے ضوابط سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان نے رواں سال حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیاروں کے کنونشن پر عمل درآمد کا قانون بھی منظور کیا ہے۔

 

مزید خبریں