پاکستان کو پولٹری کی عالمی درجہ بندی میں ٹاپ پانچ ممالک میں شامل کرنا ہدف ہے، محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں پولٹری مصنوعات پیدا کرنے والا گیارہواں بڑا ملک ہے، تاہم ملکی صلاحیت، پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے ذریعے پاکستان کو عالمی درجہ بندی میں پہلے دس اور پھر پانچ بڑے پولٹری پیدا کرنے والے ممالک میں شامل کرنے کا ہدف ہے۔

لاہور۔10اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں پولٹری مصنوعات پیدا کرنے والا گیارہواں بڑا ملک ہے، تاہم ملکی صلاحیت، پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے ذریعے پاکستان کو عالمی درجہ بندی میں پہلے دس اور پھر پانچ بڑے پولٹری پیدا کرنے والے ممالک میں شامل کرنے کا ہدف ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں ایکسپو سینٹر میں26 ویں عالمی پولٹری نمائش کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پولٹری کی صنعت ملکی معیشت، غذائی تحفظ اور روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، اس شعبے سے تقریبا 15 لاکھ خاندان وابستہ ہیں جبکہ صنعت کی شرح نمو 8.2 فیصد ہے۔

حکومت پولٹری کے شعبے میں ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پولٹری کا شعبہ بڑے پیمانے پر پیداوار فراہم کر رہا ہے جہاں سالانہ تقریبا 2.5 ارب کلوگرام گوشت اور 28 ارب انڈوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود پولٹری مصنوعات کی برآمدات ملکی مجموعی برآمدی صلاحیت کے مقابلے میں محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی گوشت کی مجموعی برآمدات کا حجم تقریبا 530 ملین ڈالر ہے تاہم اس میں پولٹری مصنوعات کا حصہ 3 ملین ڈالر سے بھی کم ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پولٹری کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیداواری معیار بہتر بنانے، عالمی منڈیوں تک رسائی اور برآمدی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پولٹری کے شعبے کو ٹیکسوں میں ممکنہ ریلیف دینے کی تجاویز کا جائزہ لے گی تاکہ صنعت کو درپیش مسائل کا مناسب حل نکالا جا سکے اور اس کی ترقی کی راہ ہموار ہو تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت یقینی بنانا اور سیلز ٹیکس کی چوری روکنا بھی ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم خود اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور حکومت مختلف شعبوں میں ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صارفین سے وصول کیا جانے والا سیلز ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے خوردہ فروش یا پیداواری ادارے کی جانب سے اپنے پاس رکھ لینا ایک سنگین جرم ہے۔ ٹیکس نظام میں اس قسم کی بے ضابطگیوں کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ قومی محصولات میں اضافہ ہو، کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت آئے اور ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری اداروں کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شوگر اور سیمنٹ کے شعبوں میں بھی ٹیکس چوری روکنے کے لیے کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں موثر نگرانی اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی زرعی مجموعی قومی پیداوار میں لائیو اسٹاک کا حصہ تقریبا 63 فیصد ہے اور زرعی شعبے کی شرح نمو میں سب سے نمایاں کردار بھی لائیو اسٹاک کا ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرنے بلکہ دیہی معیشت کو مستحکم بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملکی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی کے لیے انتظامی اور پالیسی سطح پر اصلاحات کی جائیں گی اور اسے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے موجودہ انتظامی ڈھانچے سے الگ کرنے کی تجویز پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ اس شعبے پر زیادہ موثر توجہ دی جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ لائیو اسٹاک کی ترقی کے لیے نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ حکومت معاونت، سازگار پالیسیوں اور ضروری سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے اس عمل میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد نجی شعبے کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پولٹری اور لائیو اسٹاک کی پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ ان شعبوں میں ترقی سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ کسانوں، کاروباری اداروں اور دیہی آبادی کے لیے روزگار اور آمدن کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بہتر پالیسیوں، ٹیکس نظام میں شفافیت اور نجی شعبے کی فعال شمولیت سے پاکستان پولٹری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق مقام حاصل کر سکے گا۔

 

مزید خبریں