اسلام آباد آئی ٹی پارک کے قیام کا سہرا وزیراعظم کے سر ہے، شزہ فاطمہ خواجہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تکمیل کا وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حمایت اور رہنمائی سے ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پارک کا قیام ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اسلام آباد میں آئی ٹی پارک کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم، آئی ٹی کمپنیوں …

اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تکمیل کا وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حمایت اور رہنمائی سے ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پارک کا قیام ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اسلام آباد میں آئی ٹی پارک کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم، آئی ٹی کمپنیوں کے سربراہان، اعلی حکام، کابینہ کے اراکین اور طلباء نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم کی مسلسل رہنمائی اور حمایت کی بدولت ڈھائی سال کے عرصے میں اس مرحلے تک پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی خواہش تھی کہ یہ سہولت محض کرائے پر دفتری جگہ فراہم کرنے والی عمارت کے بجائے ایک مکمل ٹیکنالوجی ایکو سسٹم (ماحولیاتی نظام) بنے۔منصوبے کے پسِ پردہ وژن کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہایہ صرف ایک عمارت نہیں ہے۔وزیر اعظم کی ہدایت یہ ہے کہ یہ محض کرائے کی عمارت نہیں ہوگی بلکہ ایک مکمل ایکو سسٹم ہوگا۔شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے متعدد چیلنجز کے باوجود باقاعدہ اجلاسوں اور مسلسل رابطوں کے ذریعے ذاتی طور پر اس منصوبے کو آگے بڑھایا۔انہوں نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کی قیادت نہ ہوتی تو یہ بالکل بھی ممکن نہ ہوتا۔واضح رہے کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک کو آئی ٹی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے ایک ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔

یہ حکومتِ کا تعمیر کردہ سب سے بڑا ٹیکنالوجی پارک ہے اور اس کا مقصد کاروباروں کو مصنوعات تیار کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔اس منصوبے میں ایک جدید ڈیٹا سینٹر، مراعات کا حامل خصوصی ٹیکنالوجی زون، روبوٹکس اور تحقیقی لیبارٹریاں، اسٹارٹ اپ ہب اور صنعت و تعلیمی شعبے (اکیڈمیا) کے درمیان تعاون کو فروغ دینے والا مرکز شامل ہے۔ان سہولیات کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، بشمول مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی معاونت اور مقامی سطح پر تیار کردہ ٹیکنالوجی سلوشنز (حل) کی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ حکومت کے اس ہدف سے بھی منسلک ہے جس کے تحت 2030 تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس سے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور فری لانسرز کو اپنے کام کو وسعت دینے، مصنوعات کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

اپنے خطاب کے دوران وفاقی وزیر نے ٹیکنالوجی کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے وزیراعظم کی قیادت میں شروع کیے گئے دیگر اقدامات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے لاہور میں واقع ارفع کریم ٹاور کا ذکر کیا، جس کا نام ارفع کریم کے نام پر رکھا گیا ہے’’ ارفع کریم نو سال کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین ‘مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل’ بنی تھیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس سہولت نے انکیوبیشن سینٹر اور آئی ٹی یونیورسٹی فراہم کر کے آئی ٹی ایکو سسٹم (نظام) کی تعمیر میں مدد کی ہے۔انہوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد اور کاروباری افراد کی معاونت کے لیے ‘کو-ورکنگ اسپیسز’ (مشترکہ دفتری مقامات) کے قیام کا بھی ذکر کیا۔وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل خدمات اور تعلیمی وسائل تک عوام کی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے قائم کیے گئے ای-سہولت مراکز اور ای-لائبریریز پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکنالوجی کی سہولیات کو بڑے شہروں سے آگے بڑھایا ہے اور گزشتہ دو سالوں کے دوران پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے 65 اضلاع میں مراکز قائم کیے ہیں۔ یہ مراکز نوجوانوں کو انٹرنیٹ تک رسائی اور ڈیجیٹل سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ملک بھر میں 135 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جو چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں قائم کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک بھر میں ڈیجیٹل مواقع کو وسعت دینا اور نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے شعبے میں حصہ لینے کے قابل بنانا ہے۔ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے اسلام آباد کے وفاقی سکولوں کی ان طالبات کا ذکر کیا جنہوں نے تقریب میں شرکت کی۔انہوں نے بتایا کہ ساتویں سے گیارہویں جماعت کی ان طالبات نے ہواوے (Huawei) کی 16 تربیتی سرٹیفیکیشنز مکمل کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے رہنماؤں اور سرکاری حکام کے ساتھ ان کی شرکت، ایک ایسا جامع ٹیکنالوجی ایکو سسٹم تشکیل دینے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتی ہے جس میں سب کی شمولیت ہو۔شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک جدت کو فروغ دینے، ہنرمند پیشہ ور افراد تیار کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی مسلسل حمایت نے اس منصوبے کی تکمیل کے دوران درپیش چیلنجز کے باوجود اسے آگے بڑھانے میں مدد کی ہے۔

مزید خبریں