یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے روس کے فوجی صنعتی شعبے کو نشانہ بنانے والی تقریباً 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ۔ شنہوا کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرکہا کہ نئی پابندیوں میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے سلسلے سے ہے۔
یورپی یونین نے روس کے فوجی صنعتی شعبے کو نشانہ بنانے والی 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دے دی

مزید خبریں
برسلز۔12اکتوبر (اے پی پی):یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے روس کے فوجی صنعتی شعبے کو نشانہ بنانے والی تقریباً 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ۔ شنہوا کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرکہا کہ نئی پابندیوں میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے سلسلے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد یہ یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں ایک ہی مرحلے میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد روس کے لیے یوکرین کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تیاری کو نمایاں طور پر مشکل، سست رفتار اور مہنگا بنانا ہے۔ لکسمبرگ میں یورپی یونین کی خارجہ امور کونسل کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی پابندیوں کے تحت ان سرگرمیوں کو بھی ہدف بنایا جائے گا جنہیں انہوں نے یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے متعلق روس میں ہونے والے ”جعلی انتخابات“ قرار دیا۔
کاجا کیلس نے ایک بار پھر یورپی یونین کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ تنازع کے خاتمے کے لیے روس پر مسلسل دبائو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ روس کے خلاف پابندیوں کے معاملے پر مزید ہم آہنگی پیدا کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور امریکا کے اقدامات میں ہم آہنگی ماسکو پر دبائو کو مزید موثر بنا سکتی ہے۔








