یونیورسٹی آف سرگودھا کے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے زیر اہتمام گیلری 21 اور صادقین فاؤنڈیشن امریکا کے اشتراک سے ”صادقین کو خراجِ تحسین“ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا گیا،جس میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات (ہلالِ امتیاز، ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔وائس چانسلر نے اپنےخطاب میں ایک باشعور
یونیورسٹی آف سرگودھا کے انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
سرگودھا۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):یونیورسٹی آف سرگودھا کے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے زیر اہتمام گیلری 21 اور صادقین فاؤنڈیشن امریکا کے اشتراک سے ”صادقین کو خراجِ تحسین“ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا گیا،جس میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات (ہلالِ امتیاز، ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔وائس چانسلر نے اپنےخطاب میں ایک باشعور ، تخلیقی اور حساس معاشرے کی تشکیل میں فنکاروں اور تخلیقاروں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور قومی ترقی کے لیے سائنس کے ساتھ فنونِ لطیفہ پر بھی یکساں توجہ ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور صادقین کے فن کے شاندار ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے تقریب کے انعقاد اور طلبہ کو پاکستان کے عظیم فنّی ورثے سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کرنے پر انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی کاوشوں کو سراہا۔
اپنے افتتاحی خطاب میں ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن مریم سیف نے کہا کہ یہ تقریب صادقین کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور ان کے فن سے دوبارہ جڑنےکاموقع ہے، جو ایک ایسی زبان ہے جو آج بھی نئی آنکھیں تلاش کر رہی ہے۔آرٹسٹک ٹاک میں کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن، یونیورسٹی آف پنجاب سے ڈاکٹر سمیرا جواد اور ندیم عالم جبکہ گیلری 21 اسلام آباد سے ڈاکٹر فرخ سیر نے شرکت کی۔مقررین نے صادقین کی زندگی، فکر، خطاطی اور عظیم فن پاروں کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کا منفرد فنّی اسلوب انہیں پاکستان کا قومی اثاثہ بناتا ہے اور انہوں نے جدید پاکستانی فن کو نئی جہت عطا کی۔وائس چانسلر نے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی زبیدہ آغا آرٹ گیلری میں ”رازِ فن“ آرٹ نمائش کا افتتاح بھی کیا۔ نمائش میں صادقین کے منفرد فنّی اسلوب سے متاثر نادر فن پارے اور خراجِ تحسین پر مبنی تخلیقات پیش کی گئی ہیں، جو طلبہ اور فن سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کھلی رہے گی اور انہیں صادقین کے دیرپا فنّی ورثے کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرے گی۔








