ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پشاور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے احتجاج، جلسوں، جلوسوں، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کی روشنی میں یہ اقدام کیا گیا ہے
پشاور میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، احتجاج اور اجتماعات پر پابندی عائد

مزید خبریں
پشاور۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پشاور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے احتجاج، جلسوں، جلوسوں، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کی روشنی میں یہ اقدام کیا گیا ہے۔ رپورٹس میں حساس تنصیبات اور اہم شاہراہوں پر ممکنہ سکیورٹی خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے، جو انسانی جانوں اور امن عامہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔حکم نامے کے تحت ضلع پشاور کی حدود میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ احتجاج، دھرنوں، ریلیوں، جلوسوں اور مظاہروں کی اجازت نہیں ہوگی۔
انتظامیہ نے عوامی مقامات پر اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی عائد کردی ہے تاہم سرکاری ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔حکم نامے کے مطابق نوکیلے ڈنڈے، بال بیرنگ، پیٹرول بم اور تشدد کے لیے استعمال ہونے والی دیگر اشیا اپنے ساتھ رکھنے یا لے جانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیاں 12 اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گی اور سات روز تک برقرار رہیں گی۔ انتظامیہ کی جانب سے حکم نامے میں تبدیلی یا اسے واپس لیے جانے کی صورت میں صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔








