صدر مملکت آصف علی زرداری کوناروے، آذربائیجان اور سوئٹزرلینڈ کے نامزد سفیروں نے ایوان صدر میں اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔صدر مملکت نے تینوں سفیروں کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی اور پاکستان میں ان کی سفارتی ذمہ داریوں کے کامیاب دور کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری سے ناروے، آذربائیجان اور سوئٹزرلینڈ کے نامزد سفیروں کی ملاقات، اسناد سفارت پیش،دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری کوناروے، آذربائیجان اور سوئٹزرلینڈ کے نامزد سفیروں نے ایوان صدر میں اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔صدر مملکت نے تینوں سفیروں کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی اور پاکستان میں ان کی سفارتی ذمہ داریوں کے کامیاب دور کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔پیر کو ایوان صدرکے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں بالخصوص اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں پر توجہ دی گئی۔
ناروے کے نامزد سفیر سگوالڈ ہائوگ سے ملاقات میں صدر مملکت نے پاکستان اور ناروے کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 2022ء میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے دوران ناروے کی امداد کو سراہا اور اپریل 2026ء میں موسمیاتی تعاون سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔صدر مملکت نے قابلِ تجدید توانائی، بحری امور، ٹیکنالوجی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ میں پاکستانی تارکین وطن کے کردار کو بھی سراہا۔آذربائیجان کے نامزد سفیر عرفان شاکراوغلو دائودوف سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔

انہوں نے مضبوط سیاسی روابط کو تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔صدر مملکت نے توانائی، علاقائی روابط اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا، دفاعی صنعتی تعاون میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی روابط سیاحت اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔سوئٹزرلینڈ کے نامزد سفیر اسٹیفن لائورینٹ رے سے ملاقات میں صدر مملکت نے ثالثی اور امن کی کوششوں میں سوئٹزرلینڈ کے کردار کو سراہا جس میں برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات میں سہولت کاری بھی شامل ہے۔
صدر مملکت نے علاقائی امن کے لیے مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور تجارت، سرمایہ کاری، ادویہ سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، قابل تجدید توانائی، آبی انتظام اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا۔ان ملاقاتوں کے دوران سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار احمد بھی موجود تھے۔








