وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا، آئین بنانے والے اکابرین نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین میں متعلقہ آرٹیکلز شامل کئے تھے، وفاق نے آئین کے تحت اقدام اٹھایا ہے اور کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، ہم اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات …
خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات اور حکومتوں کے کردار کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا،وزیراعلی میرسرفرازبگٹی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا، آئین بنانے والے اکابرین نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین میں متعلقہ آرٹیکلز شامل کئے تھے، وفاق نے آئین کے تحت اقدام اٹھایا ہے اور کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، ہم اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات کا موازنہ کیا جا رہا ہے جبکہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی سے نمٹنے اور حکومتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے حوالے سے واضح فرق ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اقدام صرف امن و امان کی صورتحال کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکومتی کردار ادا نہ کرنے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کیلئے مختص فنڈز سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی، جبکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو حکومتی معاونت، موثر قانون سازی اور بیانیے کی تشکیل میں تعاون فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوتی ہے، بلوچستان حکومت اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جنگی حالات کے باوجود وفاق پر حملہ آور ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں،جو غیرذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سوئی کا دورہ کیا تو دور کہیں دستی بم اور کریکر پھوڑے گئے۔وزیر اعلی نے کہا کہ شہیدمحترمہ بینظیر بھٹو، بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کے قاتلوں کو واپس بلانے کی باتیں کون کر رہا تھا، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے تمام اراکین دہشت گردی کے خلاف ہیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔








