وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی اصولی طور پر پسندیدہ اقدامات نہیں تاہم جمہوری نظام میں یہ آخری چارہ کار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، 1973ء کا آئین ناگزیر حالات میں ان اقدامات کی اجازت دیتا ہے اور ان کے جواز کو پرکھنے کے لیے پارلیمانی اور عدالتی نگرانی کا طریقہ کار بھی …
گورنر راج اور ایمرجنسی غیر معمولی حالات میں آئینی اقدامات ہیں، انہیں غیر آئینی قرار دینا درست نہیں، پروفیسر احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی اصولی طور پر پسندیدہ اقدامات نہیں تاہم جمہوری نظام میں یہ آخری چارہ کار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، 1973ء کا آئین ناگزیر حالات میں ان اقدامات کی اجازت دیتا ہے اور ان کے جواز کو پرکھنے کے لیے پارلیمانی اور عدالتی نگرانی کا طریقہ کار بھی فراہم کرتا ہے، لہٰذا انہیں غیر آئینی قرار دینا درست نہیں۔
اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی صوبے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی تھی، صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے، ایسے حالات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے توجہ ہٹانا اور صوبائی وسائل و انتظامی توجہ کو دارالحکومت میں سیاسی محاذ آرائی پر مرکوز کرنا اپنی بنیادی ذمہ داری سے انحراف کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سکیورٹی اداروں کی توجہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں سے ہٹ کر سیاسی محاذ آرائی کی طرف مبذول ہوتی ہے تو اس کا فائدہ امن کے دشمنوں کو پہنچتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لانگ مارچ دہشت گردوں کے لیے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا ذریعہ بن چکی تھی جبکہ ایک طرف سکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے اور دوسری طرف ریاستی اداروں اور پاکستان کے خلاف بیان بازی کی جا رہی تھی۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جب پاکستان عالمی سطح پر اپنی ساکھ مستحکم کرنے اور سفارتی کامیابیوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہو، ایسے وقت میں دارالحکومت میں تصادم اور انتشار کے مناظر پیدا کرنا قومی مفاد کی خدمت نہیں، احتجاج جمہوری حق ہے تاہم اس حق کے ساتھ قانون کی پابندی، شہریوں کے حقوق کا احترام اور امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر چند ماہ بعد ایسی سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا جو کاروبار، روزگار، سرمایہ کاری اور شہریوں کے معمولات زندگی کو مفلوج کر دے۔ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تاہم ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف کے اندر موجود انتہاپسند عناصر نے ان کوششوں کو ناکام بنایا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی قیادت کی صلاحیت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اختلافات کے باوجود مذاکرات اور سیاسی تدبر کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی سے استعفوں اور پنجاب میں اپنی ہی حکومت ختم کرنے جیسے فیصلوں نے پی ٹی آئی کے سیاسی مواقع محدود کیے جبکہ ایک بار پھر سیاسی تدبر پر ضد اور انا کو ترجیح دینے سے جماعت نے اپنے سیاسی امکانات کو نقصان پہنچایا۔
احسن اقبال نے اپریل 2022ء کے آئینی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی پاسداری کی بات کرنے والوں کو ماضی کے واقعات بھی یاد رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کے بجائے اس وقت کے ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا جس کے بعدسابق وزیراعظم کے مشورے پر سابق صدر نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ، وزیراعظم کے مشورے اور قومی اسمبلی کی تحلیل کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے اسمبلی بحال کر دی تھی۔ وفاقی وزیر کے مطابق آرٹیکل 58 کے تحت تحریک عدم اعتماد کے نوٹس کی موجودگی میں وزیراعظم کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دینے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
انہوں نے پنجاب کے منتخب بلدیاتی اداروں کی تحلیل اور عدالتی فیصلے کے ذریعے ان کی بحالی پر عمل درآمد میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام صرف اپنی حکومت کے لیے نہیں بلکہ ہر سطح کے منتخب اداروں کے لیے ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین کی پاسداری کا دعویٰ اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اس کی پابندی کی جائے جس کا حوالہ اپوزیشن میں دیا جاتا ہے، آئین کوئی عارضی سیاسی سہارا نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے مستقل عہد ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو اختلافات کو تصادم کے بجائے دلیل، مذاکرات اور آئینی عمل کے ذریعے حل کرے تاکہ عوام کو بار بار سیاسی بے یقینی، انتشار اور محاذ آرائی کی قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔








