آبادیاتی تبدیلی کو انسانی وسائل کی بہتر ترقی اور روزگار کے زیادہ مواقع میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے ،سینیٹر محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بہبود آبادی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط اقدامات مسلسل سیاسی عزم اور قابلِ پیمائش نتائج بنیادی اہمیت کے حامل ہیں

بنکاک۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بہبود آبادی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط اقدامات مسلسل سیاسی عزم اور قابلِ پیمائش نتائج بنیادی اہمیت کے حامل ہیں ، آبادیاتی تبدیلی کو انسانی وسائل کی بہتر ترقی اور روزگار کے زیادہ مواقع میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کوبنکاک میں آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ورلڈ بینک کے زیرِ اہتمام ’’آبادیاتی تبدیلی کو انسانی وسائل کی ترقی اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا‘‘ کے موضوع پر منعقدہ گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ وزیر خزانہ نے پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافے اور اس کے صحت، تعلیم اور روزگار پر اثرات سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور ایران کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے خواتین کی تعلیم، افرادی قوت میں ان کی شمولیت اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے سے متعلق آگاہی کے لیے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ رابطے کو اہم ترجیحات قرار د یتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس حوالے سے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں قومی آبادی کونسل کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط اقدامات، مسلسل سیاسی عزم اور قابلِ پیمائش نتائج کی اہمیت پر زور دیاتاکہ مختلف اداروں کی جانب سے الگ الگ کیے جانے والے اقدامات کو ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت یکجا اور آبادیاتی تبدیلی کو انسانی وسائل کی بہتر ترقی اور روزگار کے زیادہ مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان آبادی میں اضافے سے حاصل ہونے والے ممکنہ معاشی فوائد سے اسی صورت میں بھرپور استفادہ کر سکتا ہے جب ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور نجی شعبے کی قیادت میں روزگار پیدا کرنے والی معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے فری لانسنگ، آئی ٹی سے متعلق خدمات اور ڈیجیٹل مہارتوں کو نوجوانوں کی آمدنی اور برآمدات میں اضافے کے اہم مواقع قرار اور آبادی، صحت، تعلیم و روزگار کے شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا.