پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے پہلی قومی حکمتِ عملی 2031-2026 کا اجرا

پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے پہلی قومی حکمتِ عملی 2031-2026 کا اجرا

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزارتِ انسانی حقوق اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ملک میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے پہلی قومی حکمتِ عملی 2031-2026 کا اجرا کر دیا۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد پاکستان میں رہنے والے 12 کروڑ بچوں کا تحفظ ، تشدد کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کے لیے مؤثر معاونت و انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ عالمی ادارہ صحت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق دو روزہ قومی مشاورتی اجلاس کے پہلے دن 100 سے زائد ماہرین، وفاقی و صوبائی حکام، شراکت دار اداروں، سول سوسائٹی، نوجوانوں کی تنظیموں اور بچوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے مشترکہ حل، قابلِ پیمائش اقدامات اور عملی لائحہ عمل کی نشاندہی پر غور کیا گیا۔

مقررین نے 2024 میں کولمبیا کے شہر بوگوٹا میں منعقدہ پہلی عالمی وزارتی کانفرنس کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔قومی حکمتِ عملی کا مقصد ہر بچے کے لیے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سماجی یا معاشی پس منظر سے ہو، تشدد کی روک تھام، تحفظ، بروقت ردعمل، بحالی، معاشرے میں دوبارہ شمولیت اور انصاف کی فراہمی پر مشتمل ایک مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔اس حکمتِ عملی کے تحت قتل، جسمانی و جنسی اور نفسیاتی تشدد، بچوں سے غفلت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تشدد، استحصال اور بدسلوکی سمیت تشدد کی مختلف اقسام سے نمٹنے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔

بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور بچوں، تارکینِ وطن بچوں اور غریب شہری آبادیوں میں رہنے والے بچوں کو استحصال، کم عمری کی شادی، انسانی سمگلنگ اور چائلڈ لیبر سمیت مختلف خطرات کا زیادہ سامنا ہوتا ہے۔ حکمتِ عملی میں ان کمزور طبقات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔یہ اقدام بچوں کے حقوق کے کنونشن اور عالمی ادارۂ صحت کی قیادت میں 10 بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے تیار کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک انسپائر کے اصولوں پر استوار ہے۔

اس فریم ورک میں سات حکمتِ عملیاں شامل ہیں، جن کے ذریعے قوانین اور سماجی رویوں میں بہتری، محفوظ ماحول کا قیام، والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کی معاونت، معاشی استحکام، ردعمل کی خدمات اور بچوں کی زندگی سے متعلق مہارتوں کو فروغ دے کر تشدد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔سیکرٹری وزارتِ انسانی حقوق عبدالخالق شیخ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے پہلی قومی حکمتِ عملی کا اجرا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کا مقصد متعلقہ شعبوں اور اداروں میں تشدد کی روک تھام، تحفظ اور مؤثر ردعمل کے لیے جامع اور مربوط قومی نظام قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی محض آغاز ہے اور اس کی کامیابی کا اصل پیمانہ عملی اقدامات اور بچوں کو تشدد سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہوگی۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتِ بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور ہر بچے کے لیے محفوظ اور تشدد سے پاک ماحول یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے مؤثر پالیسیاں، مضبوط ادارے اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں تاکہ بچوں کے حقوق، عزت و وقار اور مستقبل کا تحفظ کیا جا سکے۔یونیسیف پاکستان کی ڈپٹی نمائندہ جینیفر میلٹن نے کہا کہ بچوں کی جانب سے سامنے آنے والا یہ مؤقف انتہائی اہم ہے کہ تشدد کو اب بھی نظم و ضبط قائم کرنے کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ صرف نقصان پہنچنے کے بعد ردعمل دینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے لیے پیشگی روک تھام، والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کی معاونت، محفوظ اور مثبت تعلیمی ماحول کا قیام، نقصان دہ سماجی رویوں میں تبدیلی اور بچوں کو ان کے حقوق اور مدد حاصل کرنے کے ذرائع سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔

گرل گائیڈ قرۃ العین صفدر خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک گرل گائیڈ کی حیثیت سے اس امید کے ساتھ موجود ہیں کہ پاکستان کا ہر بچہ خوف سے آزاد ماحول میں پروان چڑھ سکے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے بچوں کے لیے خوف روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، چاہے وہ سکول میں ہراسانی ہو، درد اور تذلیل کا باعث بننے والی سزا، بدسلوکی یا موبائل فون کی اسکرین پر ملنے والی دھمکیاں۔ اکثر بچوں کو ایسے افراد کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں وہ جانتے اور ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بچے کو خاموشی سے تکلیف برداشت کرنے اور اپنی بات کہنے کے خوف کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ بچے مستقبل ضرور ہیں، لیکن ان کا بچپن آج گزر رہا ہے۔

بچوں کو محفوظ ماحول، تحفظ اور ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے ان کے بڑے ہونے تک انتظار نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ صحتِ عامہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور کسی بھی بچے کے خلاف تشدد درحقیقت ہمارے مستقبل پر براہِ راست حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تشدد کے اثرات فوری جسمانی چوٹوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچوں کی ذہنی صحت، نشوونما، تعلیم اور تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں اور بالغ ہونے کے بعد بھی ان کی صحت اور فلاح و بہبود پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت پاکستان میں بچوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کے خاتمے اور ہر بچے کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں تعاون جاری رکھے گا، خواہ بچے کہیں بھی رہتے ہوں یا ان کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ایک ارب بچے جسمانی، جنسی یا جذباتی تشدد کا سامنا کرتے ہیں، جس کے اثرات ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر پوری زندگی برقرار رہ سکتے ہیں۔ دنیا میں ہر پانچ منٹ بعد ایک بچہ تشدد کے نتیجے میں موت کا شکار ہو جاتا ہے۔عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بچوں کے خلاف تشدد کی تمام اقسام اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی روک تھام ممکن ہے، بشرطیکہ مؤثر حکمتِ عملیوں کو اپنایا جائے، مضبوط حفاظتی نظام قائم کیے جائیں اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط و مؤثر عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔