غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے شعبہ معاشیات کے زیرِ اہتمام انسانی رویوں کی بنیاد پر عوامی پالیسیوں کی تشکیل اور بہتری کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔پاکستان سمیت مختلف ممالک کے محققین، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی
غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں انسانی رویوں کی بنیاد پر عوامی پالیسی سازی کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ

مزید خبریں
ڈیرہ غازی خان ۔ 14 اکتوبر (اے پی پی):غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے شعبہ معاشیات کے زیرِ اہتمام انسانی رویوں کی بنیاد پر عوامی پالیسیوں کی تشکیل اور بہتری کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔پاکستان سمیت مختلف ممالک کے محققین، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ترجمان غازی یونیورسٹی کے مطابق ورکشاپ کا مقصد انسانی رویوں، سوچ اور فیصلہ سازی کے عمل کو سمجھتے ہوئے ایسی مؤثر عوامی پالیسیاں تشکیل دینے کے طریقوں پر غور کرنا تھا جو عوامی مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور معاشرتی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔ افتتاحی نشست میں کلائمیٹ بیہیویئرل لیب کے انچارج ڈاکٹر محمد عمران نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔اس موقع پر لندن اسکول آف اکنامکس کے ڈاکٹر عمر تاج، یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے پروفیسر ڈاکٹر شہریار بنوری، گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال اعجاز گیلانی، ویامو پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر عثمان انور، محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے پروفیسر ڈاکٹر عرفان بیگ، ڈاکٹر محمد ضیاء اللہ اور ڈاکٹر محمد علی تارڑ سمیت دیگر ماہرین نے اظہارِ خیال کیا۔
مقررین نے کہا کہ عوامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے قوانین اور حکومتی اقدامات کے ساتھ لوگوں کے رویوں، معاشرتی روایات، ضروریات اور فیصلہ سازی کے انداز کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ سائنسی تحقیق اور عملی تجربات کی روشنی میں ایسی پالیسیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں جن پر عمل درآمد عوام کے لیے آسان ہو اور جن کے نتائج زیادہ مؤثر ثابت ہوں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ ورکشاپ کے دوران نو اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ، صحتِ عامہ، بہتر طرزِ حکمرانی، مالی معاملات میں عوامی رویے، تعلیم و انسانی وسائل کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، قدرتی آفات سے بچاؤ، معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی اور تحقیق پر مبنی پالیسی سازی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ماہرین نے پانی اور بجلی کی بچت، پائیدار زراعت، صحتِ عامہ کی بہتری، تعلیمی معیار میں اضافے، مالی سہولتوں تک رسائی اور سرکاری خدمات کو آسان بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے عوامی آگاہی میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔








