وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے یو این ڈبلیو ایف پی کے ہیڈ سدیپ جوشی اور ڈی جی ای سی ایچ او جیورجیوس فرانٹزس نے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کو بارشوں اور سیلاب سے درپیش مختلف چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں 7ہزار سے زائد گلیشیرز موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ کی یو این ڈبلیو ایف پی حکام سے ملاقات،بارشوں اور سیلاب سے درپیش مختلف چیلنجز پر گفتگو

مزید خبریں
گلگت۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے یو این ڈبلیو ایف پی کے ہیڈ سدیپ جوشی اور ڈی جی ای سی ایچ او جیورجیوس فرانٹزس نے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کو بارشوں اور سیلاب سے درپیش مختلف چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں 7ہزار سے زائد گلیشیرز موجود ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کو ہر سال قدرتی آفات کا سامنا کرناپڑتا ہے جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد متاثر ہوتی ہے، سیلاب کی وجہ سے گھروں کو نقصان پہنچاتا اور معیشت تباہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ کا خطیر رقم ان متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی اور متاثرین کی مدد کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت نے محدود وسائل کے باوجود پرویشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی گلگت بلتستان اور دیگر متعلقہ محکموں کے تحت بحالی اور متاثرین کی مدد کیلئے ہر ممکن اقدامات کرتی ہے۔ صوبائی حکومت نے گلیشیرز کی پروٹیکشن کے حوالے سے بھی گلیشیرز پروٹیکشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا ہے۔
گلگت بلتستان میں فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی صوبائی حکومت اقدامات کررہی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے یو این ڈبلیو ایف پی گلگت بلتستان میں فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے راولپنڈی اسلام آباد کے مقام پر ویئر ہاؤس کی تعمیر اور پی ڈی ایم اے جی بی کو درکار وسائل کی فراہمی کے حوالے سے مدد کرے۔ یو این ڈبلیو ایف پی کے ہیڈ سدیپ جوشی اور ڈی جی ای سی ایچ او جیورجیوس فرانٹزس نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں یو این ڈبلیو ایف پی صوبائی حکومت کے تعاون سے کام کررہاہے۔
صوبائی حکومت قدرتی آفات سے درپیش چیلنجز اور دیگر شعبوں میں مزید تعاون فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیرپلاننگ سید جلال شاہ، صوبائی وزیر داخلہ دلپذیر خان، صوبائی سیکریٹری پلاننگ، سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ ودیگر متعلقہ افسرا ن شریک تھے۔








