آسٹریلیا کی معروف اور باوقار گھڑ دوڑ میلبورن کپ میں برطانوی بادشاہ کنگ چارلس کے سابق ملکیتی گھوڑے ’’پوائنٹ آف لا نے‘‘ کامیابی حاصل کرلی۔ بی بی سی کے مطابق آسٹریلوی سوار ایتھن براؤن نے شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھوڑے کو فتح سے ہمکنار کیا۔پوائنٹ آف لا کو رواں سال کے آغاز میں کنگ چارلس سے نامعلوم قیمت پر سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے خریدا تھا۔ اسے …
شاہ چارلس کے سابق گھوڑے ‘پوائنٹ آف لا’ نے آسٹریلیا کا نامور میلبورن کپ جیت لیا

مزید خبریں
میلبورن۔3نومبر (اے پی پی):آسٹریلیا کی معروف اور باوقار گھڑ دوڑ میلبورن کپ میں برطانوی بادشاہ کنگ چارلس کے سابق ملکیتی گھوڑے ’’پوائنٹ آف لا نے‘‘ کامیابی حاصل کرلی۔ بی بی سی کے مطابق آسٹریلوی سوار ایتھن براؤن نے شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھوڑے کو فتح سے ہمکنار کیا۔پوائنٹ آف لا کو رواں سال کے آغاز میں کنگ چارلس سے نامعلوم قیمت پر سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے خریدا تھا۔ اسے مقابلے کے ابتدائی فیورٹ گھوڑوں میں شمار کیا جارہا تھا۔
دوڑ کے آخری مرحلے میں ایتھن براؤن نے درمیانی پوزیشن سے گھوڑے کو آگے بڑھایا اور اختتامی چند سو میٹر میں سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ اس سے قبل رائل سپریمیسی دیگر گھوڑوں سے ایک درجن گھوڑوں سے زائد لمبائی کی برتری حاصل کیے ہوئے تھا۔فتح کے بعد ایتھن براؤن نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہر گھڑ سوار کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوڑ کے دوران انہوں نے صبر اور سکون برقرار رکھا اور آخری مرحلے میں پوری توجہ کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ٹرینر سیاران مہر کے زیر تربیت 3 سالہ پوائنٹ آف لا گزشتہ ماہ جیلونگ کپ بھی جیت چکا ہے۔
مہر نے اس سال میلبورن کپ میں ریکارڈ 7 گھوڑے اتارے، جن میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والا زہران اور فاتح پوائنٹ آف لا بھی شامل تھے۔واضح رہے کہ میلبورن کپ کا آغاز 1861 میں ہوا تھا اور اسے آسٹریلیا کی ایسی دوڑ قرار دیا جاتا ہے جو پورے ملک کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ اس سال مقابلے کی مجموعی انعامی رقم 10.2 ملین آسٹریلوی ڈالر تھی۔اس موقع پر میلبورن کے فلیمنگٹن ریس کورس میں ہزاروں افراد موجود تھے، جہاں معروف برطانوی گلوکار روبی ولیمز نے بھی موسیقی کا مظاہرہ کیا۔
تاہم مقابلے سے قبل گھوڑوں کی دوڑ کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔مقابلے سے چند گھنٹے قبل گھوڑے ایسٹرکس کو دوڑ سے باہر کردیا گیا، کیونکہ اس کے ایک اصطبل ملازم نے غلطی سے اسے ممنوعہ دوا دے دی تھی۔ ریس انتظامیہ نے اس عمل کو سنگین خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ ٹرینر کرس والر پر 50 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔دوسری جانب آسٹریلیا میں میلبورن کپ کے حوالے سے عوامی دلچسپی میں کمی کے باوجود یہ مقابلہ آج بھی ملک کی نمایاں کھیلوں کی روایات میں شمار ہوتا ہے۔








