یونیورسل سروس فنڈ کا پشاور آپٹیکل فائبر منصوبہ مکمل، 523 موبائل ٹاورز فائبرائز اور 78 یونین کونسلز منسلک، بلوچستان میں منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف)پاکستان نے ڈیجیٹل تفریق مٹانے اور دور دراز علاقوں کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ سے جوڑنے کے لیے پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان پر مشتمل ’نیکسٹ جنریشن آپٹیکل فائبر نیٹ ورک اینڈ سروسز‘ (NG-OFNS) پشاور لاٹ-17 منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا جس کے تحت 755 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے ساتھ 523 موبائل ٹاورز کو ہائی کپیسٹی نیٹ ورک سے منسلک کر دیا …

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف)پاکستان نے ڈیجیٹل تفریق مٹانے اور دور دراز علاقوں کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ سے جوڑنے کے لیے پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان پر مشتمل ’نیکسٹ جنریشن آپٹیکل فائبر نیٹ ورک اینڈ سروسز‘ (NG-OFNS) پشاور لاٹ-17 منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا جس کے تحت 755 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے ساتھ 523 موبائل ٹاورز کو ہائی کپیسٹی نیٹ ورک سے منسلک کر دیا گیا ہے۔

یہ بات یو ایس ایف پاکستان کے پندرہ روزہ اعلیٰ سطحی پراجیکٹ ریویو اجلاس میں بتائی گئی جہاں جاری منصوبوں کی پیش رفت، زمینی رکاوٹوں اور ڈیجیٹل شمولیت کے اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ترجمان یو ایس ایف کے مطابق اجلاس کے دوران سی ای او یو ایس ایف نے پشاور لاٹ-17 منصوبے کی بروقت تکمیل پر تکنیکی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت 4 اضلاع میں 755 کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھانے کے علاوہ 96 آپٹیکل نوڈز قائم کیے گئے ہیں جن سے 78 یونین کونسلز فائبر گرڈ سے منسلک ہو چکی ہیں۔

مزید برآں 523 سیلولر ٹاورز کو فائبرائز کیا گیا ہے جس سے خطے میں تیز رفتار، مستحکم اور معیاری موبائل براڈبینڈ خدمات کی فراہمی ممکن ہو گئی ہے۔اجلاس کو ہزارہ ڈویژن میں جاری منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ کے اضلاع میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ نئے فعال ہونے والے سیلولر سائٹس پر ڈیٹا ٹریفک اور استعمال میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل سروسز کی شدید طلب کا عکاس ہے۔ منصوبوں کے زمینی اثرات اور پیش رفت کا خود جائزہ لینے کے لیے یو ایس ایف کی اعلیٰ قیادت جلد ہزارہ ڈویژن کے فیلڈ دورے بھی کرے گی۔

دوسری جانب اجلاس میں بلوچستان میں جاری منصوبوں کی سست روی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ صوبے میں سکیورٹی کی نازک صورتحال، دشوار گزار جغرافیائی راستوں اور زمینی عملے کے تحفظ سے جڑے خطرات کے باعث کام متاثر ہو رہا ہے۔ یو ایس ایف قیادت نے بلوچستان میں منصوبوں کو دوبارہ ٹریک پر لانے کے لیے فوری اور ہدف شدہ اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے پارٹنرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے اور اشتراکِ عمل کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

 

مزید خبریں