یوکرین کی حمایت کے لیے 10 یورپی ممالک کے 2,800 فوجی پولینڈ میں مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے

برطانیہ اور فرانس نے کہا ہے کہ یوکرین کی حمایت کے لیے قائم نئی کثیر القومی فورس کی پہلی فوجی مشقیں 9 تا 22 نومبر تک پولینڈ میں ہوں گی، جن میں 10 یورپی ممالک کے تقریباً 2,800 فوجی حصہ لیں گے۔بنگلہ دیشی نیوز ایجنسی بی ا یس ایس کے مطابق فرانس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق ’’کوالیتسا‘‘ (پولش زبان میں اتحاد) کے نام …

پیرس۔3نومبر (اے پی پی):برطانیہ اور فرانس نے کہا ہے کہ یوکرین کی حمایت کے لیے قائم نئی کثیر القومی فورس کی پہلی فوجی مشقیں 9 تا 22 نومبر تک پولینڈ میں ہوں گی، جن میں 10 یورپی ممالک کے تقریباً 2,800 فوجی حصہ لیں گے۔بنگلہ دیشی نیوز ایجنسی بی ا یس ایس کے مطابق فرانس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق ’’کوالیتسا‘‘ (پولش زبان میں اتحاد) کے نام سے ہونے والی یہ مشقیں اس بات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کریں گی کہ جنگ کے خاتمے کے بعد مختلف ممالک کس رفتار اور موثر انداز میں بری، بحری اور فضائی افواج کو یوکرین کی معاونت کے لیے تعینات کر سکتے ہیں۔

برطانوی وزیر دفاع ویس سٹریٹنگ نے کہا کہ یہ کوئی فرضی منصوبہ نہیں بلکہ ایک حقیقی فورس ہے جو لڑائی ختم ہونے کے بعد یوکرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔یہ مشقیں 9 تا 22 نومبر تک یوکرین کی سرحد کے قریب جنوب مشرقی پولینڈ میں ہوں گی، ان میں حصہ لینے والے 2,800 فوجیوں میں سب سے بڑا دستہ فرانس کے 1,100 فوجیوں پر مشتمل ہوگا جبکہ برطانیہ 300 فوجی بھیجے گا۔فرانسیسی جنرل آرمِل ڈیرو نے کہا کہ یہ مشقیں کثیر القومی فورس کی تیاری کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے جنگ بندی کے بعد فورس کی فوری تعیناتی کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔ وہ برطانوی لیفٹیننٹ جنرل ٹام بیٹ مین کے ساتھ ان مشقوں کی قیادت کریں گے۔

مشترکہ بیان کے مطابق بیلجیم، ایسٹونیا، جرمنی، فرانس، لتھوانیا، نیدرلینڈز، پولینڈ، سپین، سویڈن اور برطانیہ کے فوجی ان مشقوں میں حصہ لیں گے۔ زمینی اور فضائی کارروائیاں یوکرین کی سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے نووا ڈیبا کے اطراف ہوں گی۔برطانوی لیفٹیننٹ جنرل ٹام بیٹ مین نے واضح کیا کہ یہ فورس امن برقرار رکھنے یا جنگ بندی کی نگرانی کا مشن نہیں ہے اور نہ ہی اسے جارحانہ کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یوکرین کی مسلح افواج کی بحالی میں معاونت اور انہیں مستقبل میں ممکنہ روسی جارحیت کی روک تھام اور ضرورت پڑنے پر دفاع کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔فرانسیسی جنرل آرمِل ڈیرو نے کہا کہ ان مشقوں کا مقصد مختلف ممالک کی افواج کے درمیان ممکنہ انتظامی، لاجسٹک اور ثقافتی مسائل پر قابو پاتے ہوئے مشترکہ مشن کی تعیناتی کی تیاری کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں اور نہ ہی فوجی قوت کا رعب جمانا مقصود ہے۔ مشقوں کے دوران بھاری ہتھیاروں کے بجائے ڈرونز سمیت ہلکے سازوسامان استعمال کیے جانے کی توقع ہے، جن کے ذریعے ڈرونز کے خلاف دفاع اور اپنی حفاظت کی مشقیں کی جائیں گی۔ ان میں ٹینک شامل نہیں ہوں گے۔لیفٹیننٹ جنرل بیٹ مین کے مطابق مشقوں میں مختلف افواج کے درمیان رابطہ کاری، اہلکاروں، سازوسامان اور رسد کی نقل و حرکت، اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ مختلف ممالک کے فوجی دستے ایک مشترکہ کثیر القومی فورس کے طور پر موثر انداز میں کام کر سکتے ہیں یا نہیں۔

دریں اثنا ترکیہ استنبول سے بحیرہ اسود میں ممکنہ بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں کے لیے تیاریوں کا جائزہ لینے کی غرض سے بحری مشقوں کی قیادت کرے گا۔ تاہم ترکیہ کے فوجی پولینڈ میں ہونے والی زمینی مشقوں میں حصہ نہیں لیں گے۔یاد رہے کہ یہ فورس 2025 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا آپریشنل ہیڈکوارٹر پیرس میں ہے۔ یہ نیٹو کا آپریشن نہیں ہے اور اس میں امریکا کا کردار بھی محدود ہے۔اس فورس کا مقصد یوکرین کی مسلح افواج کی معاونت، یوکرین کی فضائی حدود کی سلامتی یقینی بنانے اور بحیرہ اسود میں اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔

 

مزید خبریں