جائیداد ضبط کرنے سے پہلے خصوصی جج کا قانونی نوٹس اور متاثرہ فریق کو سماعت کا موقع دینا ضروری ہے، سپریم کورٹ

جائیداد ضبط کرنے سے پہلے خصوصی جج کا قانونی نوٹس اور متاثرہ فریق کو سماعت کا موقع دینا ضروری ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پریوینشن آف سمگلنگ ایکٹ 1977 کے تحت کسی جائیداد کی منتقلی پر پابندی صرف اس وقت عائد ہوتی ہے جب خصوصی جج قانون کی دفعہ 31 کے تحت متعلقہ شخص کو نوٹس جاری کرے، اینٹی نارکاٹکس فورس کے ریجنل ڈائریکٹر کا نوٹس اس قانونی تقاضے کا متبادل نہیں ہو سکتا،عدالت نے منشیات کی آمدن سے حاصل شدہ قرار دے کر ضبط کی گئی اسلام آباد کی کمرشل اور رہائشی جائیدادوں کے خریداروں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ اور خصوصی عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ جائیدادیں ضبطگی سے آزاد کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 8 اکتوبر 2026 کو مختصر حکم جاری کیا جس کی وجوہات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ قانون کی دفعہ 35 کے تحت جائیداد کی منتقلی پر پابندی خصوصی جج کی جانب سے دفعہ 31 کے تحت نوٹس جاری ہونے کے بعد ہی مؤثر ہوتی ہے۔ 24 جولائی 1995 کو اے این ایف کے ریجنل ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کو دفعہ 31 کا نوٹس تصور نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق متعلقہ جائیدادوں کے متعدد خریدار خصوصی عدالت کی پہلی کارروائی میں فریق نہیں تھے اور نہ ہی انہیں نوٹس جاری کیے گئے حالانکہ جائیدادوں کے سابق مالک خالد لطیف نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ وہ کمرشل عمارت کے مختلف یونٹس دوسرے افراد کو فروخت کر چکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جائیداد ضبط کرنے سے پہلے ایسے خریداروں کو نوٹس جاری کرکے صفائی کا موقع دینا ضروری تھا۔ آئین کے آرٹیکل 24 کے تحت کسی شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے قانونی اور آئینی تقاضوں کو نظرانداز کیا جس سے خریداروں کے حقِ ملکیت کی خلاف ورزی ہوئی۔سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 13 اپریل 2018 اور خصوصی عدالت کا 12 جولائی 2010 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ جائیدادیں ضبطگی سے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید خبریں