اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، پاکستان کے درمیان مشترکہ تعلیمی و علمی سرگرمیوں کے فروغ، بین الاقوامی تعلیمی روابط کو مضبوط بنانے اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ممتاز ماہرینِ تعلیم، محققین اور اسکالرز کی پاکستانی جامعات میں علمی سرگرمیوں میں شرکت کو سہل بنانے کے لیے ایک معاہدۂ تعاون (لیٹر …
کامسٹیک اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کا معاہدہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، پاکستان کے درمیان مشترکہ تعلیمی و علمی سرگرمیوں کے فروغ، بین الاقوامی تعلیمی روابط کو مضبوط بنانے اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ممتاز ماہرینِ تعلیم، محققین اور اسکالرز کی پاکستانی جامعات میں علمی سرگرمیوں میں شرکت کو سہل بنانے کے لیے ایک معاہدۂ تعاون (لیٹر آف ایگریمنٹ) پر دستخط کیے گئے ہیں۔
معاہدے پر کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چیئرمین، انجینئر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اسلام آباد میں کامسٹیک سیکریٹریٹ میں دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد او آئی سی کے رکن ممالک کے ممتاز اسکالرز، محققین اور ماہرین کی شمولیت سے لیکچرز، سیمینارز، ورکشاپس، خصوصی علمی نشستوں، تعلیمی مکالموں، ادارہ جاتی دوروں اور استعداد کار میں اضافے کی دیگر باہمی طور پر طے شدہ سرگرمیوں کے ذریعے تعلیمی، سائنسی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کے حالیہ دورۂ ایچ ای سی ریجنل سینٹر لاہور اور چیئرمین ایچ ای سی کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور دونوں اداروں کے مابین تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے کیے گئے تبادلۂ خیال پر رکھی گئی۔
ایچ ای سی کے اعلیٰ سطحی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے مسلم دنیا میں سائنسی تعاون، تعلیمی نقل و حرکت اور علم و تجربے کے تبادلے کے فروغ کے لیے کامسٹیک کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی جامعات میں او آئی سی کے رکن ممالک کے ممتاز ماہرین، نامور اساتذہ اور اسکالرز کے علمی دوروں کے انتظام میں کامسٹیک کی جانب سے بھرپور معاونت کی پیشکش کی، تاکہ علم و تجربے کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور ادارہ جاتی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی، پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے او آئی سی کے رکن ممالک میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کامسٹیک کی نمایاں خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ کامسٹیک اور ایچ ای سی کے درمیان تعاون پاکستانی جامعات اور او آئی سی کے دیگر رکن ممالک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مابین تعلیمی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں نہایت مفید ثابت ہوگا۔ اجلاس کے دوران ممتاز مسلم سائنس دانوں کی کامیابیوں اور خدمات کو اجاگر کرنے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے خصوصی سرگرمیاں منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس اقدام کے ذریعے سائنس، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور انسانی ترقی کے شعبوں میں مسلم سائنس دانوں کے تاریخی اور عصری کردار کو نمایاں کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ اس سے مسلم دنیا کے سائنسی ورثے کو اجاگر کرنے، نوجوان محققین اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنے اور سائنسی تحقیق و جدت طرازی میں ان کی دلچسپی بڑھانے میں مدد ملے گی۔ معاہدے کے تحت کامسٹیک او آئی سی کے رکن ممالک سے ماہرین اور اسکالرز کے پاکستان کے دوروں میں سہولت فراہم کرے گا، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ان کے قیام اور مقامی میزبانی کے انتظامات میں معاونت کرے گا۔ تقریبِ میں ایچ ای سی اور کامسٹیک کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ ایچ ای سی کی جانب سے اراکین پروفیسر ڈاکٹر حبیب علی بخاری، پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، ڈاکٹر ناصر محمود، مشیر ایچ ای سی، پروفیسر ڈاکٹر علی ناصر اور ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈائریکٹر ایچ ای سی ریجنل سینٹر لاہور شریک ہوئے۔
کامسٹیک کی جانب سے محمد مرتضیٰ نور، فوکل پرسن؍کوآرڈینیٹر، نے شرکت کی۔ یہ معاہدہ پاکستان کے تعلیمی روابط کو وسیع تر مسلم دنیا کے ساتھ مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے ذریعے جامعات، محققین اور طلبہ کے لیے بین الاقوامی مہارت سے استفادہ کرنے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دینے، علمی و تحقیقی تبادلے کے مواقع بڑھانے اور استعداد کار میں اضافے کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔







