خیبرپختونخوا میں پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے ایک ہزار سمارٹ میٹر نصب کرنے کا منصوبہ

خیبرپختونخوا حکومت نے پانی کے ضیاع کو کم کرنے، محصولات کی وصولی بہتر بنانے اور پانی فراہم کرنے والے اداروں کے ڈیجیٹل انتظام کو مضبوط بنانے کے لئے ڈیڑھ لاکھ برطانوی پاؤنڈ کے جیو سمارٹ واٹر منصوبے کے تحت ایک ہزار تک سمارٹ واٹر میٹر نصب کرنے کی تجویز دی ہے

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت نے پانی کے ضیاع کو کم کرنے، محصولات کی وصولی بہتر بنانے اور پانی فراہم کرنے والے اداروں کے ڈیجیٹل انتظام کو مضبوط بنانے کے لئے ڈیڑھ لاکھ برطانوی پاؤنڈ کے جیو سمارٹ واٹر منصوبے کے تحت ایک ہزار تک سمارٹ واٹر میٹر نصب کرنے کی تجویز دی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک سرکاری دستاویز کے مطابق ’’جیو سمارٹ واٹر — آبی وسائل کے موثر انتظام کے لئے جغرافیائی معلومات اور سمارٹ میٹرنگ کا مربوط نظام‘‘ کے عنوان سے یہ منصوبہ پاکستان کے کلائمیٹ پراسپیرٹی پلان میں شامل ہے۔

مجوزہ اقدام کے تحت 12 ماہ کا آزمائشی پروگرام شروع کرنے کی تجویز ہے جس میں انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) ٹیکنالوجی سے منسلک 500 سے ایک ہزار سمارٹ واٹر میٹر نصب کئے جائیں گے، اس کے ساتھ جغرافیائی معلومات کے نظام (جی آئی ایس) کے ذریعے نقشہ سازی، ڈیجیٹل بلنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پانی کے رساؤ کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔منصوبے کا مقصد بلنگ کے بغیر ضائع ہونے والے یا استعمال ہونے والے پانی کی مقدار کم کرکے، شفاف بلنگ کو ممکن بنا کر اور پانی فراہم کرنے والے اداروں کے انتظام کے لئے ڈیٹا ڈیش بورڈ فراہم کرکے آبی وسائل کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔مجوزہ طریقہ کار کے تحت پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کے جی آئی ایس پر مبنی نقشے تیار کئے جائیں گے جن میں پانی کی مرکزی پائپ لائنیں، والوز، ٹینک اور کنکشن شامل ہوں گے۔پانی کے دباؤ اور بہاؤ کی نگرانی، استعمال کے رجحانات کا تجزیہ کرنے اور ممکنہ رساؤ کی نشاندہی کے لئے کلاؤڈ پر مبنی ڈیش بورڈ بھی متعارف کرایا جائے گا۔

یہ نظام پانی کے حقیقی استعمال کی بنیاد پر موبائل بلنگ کی سہولت فراہم کرے گا اور صارفین کے لئے بلنگ سے متعلق معلومات تک رسائی بہتر بنائے گا۔دستاویز میں منصوبے پر مرحلہ وار عملدرآمد کا شیڈول بھی پیش کیا گیا ہے جس کے تحت آزمائشی پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں موجودہ صورتحال کا جائزہ، جی آئی ایس نقشہ سازی اور آلات کی خریداری کی جائے گی۔درمیانی مرحلے میں میٹروں کی تنصیب، ڈیش بورڈ کو فعال بنانے اور عملے کی تربیت کی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔چھٹے سے بارہویں ماہ کے دوران نظام کی عملی نگرانی کی جائے گی جس میں پانی کے رساؤ کی نشاندہی، بلنگ کا تجزیہ اور منصوبے کی معاشی افادیت کی جانچ شامل ہوگی۔منصوبے میں عملے کی تربیت، اس نظام کو دوسرے علاقوں میں متعارف کرانے اور بڑے پیمانے پر توسیع دینے کے لئے رہنما اصولوں کی تیاری، جبکہ دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کے انتظامات بھی شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا کا کلائمیٹ چینج ٹیکنیکل ورکنگ گروپ منصوبے میں رابطہ کاری کے مرکزی ادارے کے طور پر کام کرے گا۔آئی ایم سائنسز میں قائم سینٹر فار ریونیو گروتھ اینڈ ریفارمز تکنیکی معاونت فراہم کرے گا اور منصوبے پر عملدرآمد میں مدد دے گا جبکہ پانی فراہم کرنے والے مقامی ادارے میٹروں کے انتظام اور خدمات کی فراہمی کے ذمہ دار ہوں گے۔ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے آئی او ٹی رابطہ کاری اور آلات کے حوالے سے معاونت فراہم کریں گے جبکہ تربیت یافتہ عملہ نظام کی مسلسل دیکھ بھال کرے گا۔منصوبے کے تحت معاشی افادیت کی جانچ اور اس نظام کو دوسرے علاقوں میں متعارف کرانے اور توسیع دینے کے لئے رہنما اصول تیار کرنے کی بھی تجویز ہے تاکہ ابتدائی آزمائشی مرحلے کے بعد اسے مزید علاقوں تک پھیلانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔