چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل والٹ اور انٹر آپریبلٹی کا نظام خواتین مستحقین کے لیے حکومت کا اہم اقدام ہے
ڈیجیٹل والٹ اور انٹر آپریبلٹی کا نظام خواتین مستحقین کے لیے حکومت کا اہم اقدام ہے، سینیٹر روبینہ خالد

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل والٹ اور انٹر آپریبلٹی کا نظام خواتین مستحقین کے لیے حکومت کا اہم اقدام ہے جس کے تحت وہ ملک کے کسی بھی شہر میں چھ پارٹنر بینکوں کے مجاز ریٹیلرز سے اپنی ادائیگی وصول کر سکیں گی۔ بدھ کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں براہ راست الیکٹرانک کچہری کے دوران ملک بھر سے 25 افراد نے ٹیلی فون کے ذریعے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔
چیئرپرسن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ موصول ہونے والی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر مستحق خواتین کو ادائیگیوں کی محفوظ اور شفاف فراہمی کے لیے ڈیجیٹل والٹ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔انہوں نے خواتین مستحقین کو ہدایت کی کہ وہ مفت بینظیر سم صرف قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے حاصل کریں اور اس مقصد کے لیے اپنا اصل شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ساتھ لائیں۔ سم کی ایکٹیویشن بی آئی ایس پی کی مقررہ سائٹ پر متعلقہ موبائل کمپنی کا نمائندہ کرے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سم کسی فرنچائز، ریٹیلر یا غیر مجاز شخص سے حاصل نہ کریں اور نہ ہی اپنا موبائل فون کسی ریٹیلر کے حوالے کریں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹر آپریبلٹی نظام کے تحت خواتین مستحقین چھ پارٹنر بینکوں جن میں حبیب بینک، حبیب مائیکروفنانس، بینک الفلاح، ٹیلی نار مائیکروفنانس، بینک آف پنجاب اور موبی لنک جاز بینک شامل ہیں، کے مجاز ریٹیلرز سے رقم وصول کر سکیں گی۔ چیئرپرسن نے کہا کہ ادائیگی وصول کرنے کے لیے اصل شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق ضروری ہوگی۔
رقم ڈیجیٹل والٹ میں منتقل ہونے پر بینظیر سم پر پیغام موصول ہوگا جبکہ رقم نکلوانے کے بعد بھی تصدیقی پیغام بھیجا جائے گا۔ خواتین دونوں پیغامات محفوظ رکھیں اور ادائیگی سے قبل رقم کی منتقلی کا پیغام ضرور چیک کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن خواتین مستحقین کے شناختی کارڈز کی مدت ختم ہوچکی ہے، وہ وظائف کی بلا تعطل وصولی کے لیے فوری طور پر نادرا سے اپنے شناختی کارڈز کی تجدید کروائیں۔ سروے کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی سروے گھرانے کی اہلیت کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور ایک مرتبہ سروے مکمل ہونے کے بعد دو سال سے قبل دوبارہ سروے نہیں ہوسکتا لہٰذا خواتین بار بار سروے کے لیے بی آئی ایس پی دفاتر کا رخ کرنے سے گریز کریں۔








