دی یونیورسٹی آف فیصل آباد میں چوتھی دوروزہ بین الاقوامی ایڈوانسڈ سٹیم ایجو کیشن کانفرنس کے موقع پر سائنسی پروگرام میں 240 سے زائد تحقیقی پوسٹرز پریزینٹیشن پیش کی گئیں
سٹیم کانفرنس کے سائنسی پروگرام میں 240 سے زائد تحقیقی پوسٹرز پیش، علمی و تحقیقی جدت کا بھرپور اظہار

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 04 نومبر (اے پی پی):دی یونیورسٹی آف فیصل آباد میں چوتھی دوروزہ بین الاقوامی ایڈوانسڈ سٹیم ایجو کیشن کانفرنس کے موقع پر سائنسی پروگرام میں 240 سے زائد تحقیقی پوسٹرز پریزینٹیشن پیش کی گئیں ۔ پوسڑز پریزنٹیشن پروگرام کا افتتاح پاکستان میں چینی ایمبیسی کے وائس قونسل جنرل وانگ یاچنگ، صومالیہ ایمبیسی کے سیکنڈ سیکرٹری محمد عبدالرحمان حارثی نے کیا ۔ اس موقع پر چیئرمین بورڈ آف گورنرز، دی یونیورسٹی آف فیصل آباد ڈاکٹر محمد حیدر امین، وائس چیئرمین ڈاکٹر محمد حمزہ امین و دیگر مہمان بھی موجود تھے۔ انہوں نے سکالرز کے پیش کردی سائنسی تحقیقی پوسٹرز کا جائزہ لیا اور ان کی تحقیقی کاوشوں کو سراہا۔ اس پوسٹر پریزنٹیشن میں پاکستان سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے محققین، سکالرز اور ماہرین کی متنوع علمی و تحقیقی کاوشوں کو نمایاں کیا گیا تھا۔ اس سائنسی پروگرام نے محققین کو اپنی تحقیق، نئے سائنسی تصورات اور اختراعی نظریات مؤثر انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ علمی تبادلے اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
پروگرام کے تحت متعدد اہم اور عصری موضوعات پر تحقیقی کام پیش کیا گیا، جن میں مساوات، شمولیت اور فلاح و بہبود؛ اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ مستقبل کی مہارتوں اور صلاحیتوں کا فروغ؛ مصنوعی ذہانت، جدید تعلیمی نظام اور ڈیجیٹل تبدیلی؛ جدت، کاروباری سرگرمیوں اور صنعت و تعلیمی اداروں کے مابین روابط کا فروغ شامل تھے۔ پیش کردہ تحقیقی کاوشوں میں صحت و طب، تعلیم، زبان و ادب، کمپیوٹر سائنس، کاروبار، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد علمی و پیشہ ورانہ شعبہ جات کا احاطہ کیا گیا تھا۔ شرکاء نے اپنے تحقیقی نتائج، سائنسی دریافتوں اور جدید تصورات کو جامع اور معلوماتی پوسٹرز کے ذریعے پیش کیا، جنہیں ماہرینِ تعلیم، محققین اور متعلقہ شعبہ جات کے ماہرین نے گہری دلچسپی سے دیکھا اور سراہا۔ اس موقع پر پوسٹر پریزنٹیشنز کے ذریعے محققین کو اپنے تحقیقی کام کی افادیت واضح کرنے ، ماہرین سے آرا و تجاویز حاصل کرنے اور اپنے علمی تجربات دوسروں تک پہنچانے کا موقع ملا۔ ماہرین کی جانب سے تحقیق کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال نے علمی مکالمے ، تنقیدی سوچ اور بین الشعبہ جاتی تعاون کو مزید تقویت دی۔
یہ سائنسی سرگرمی کانفرنس کے اس عزم کی عکاس تھی کہ تحقیق، جدت اور علم کے عملی اطلاق کو فروغ دے کر مستقبل کے تعلیمی، سائنسی اور سماجی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔







