تمام دینی بورڈز اور علماءکرام نے قومی بیانیہ "پیغام پاکستان ” کے ذریعے دہشت گردی ،انتہا پسندی ،خودکش حملوں ،مسلح افواج وسکیورٹی اداروں پر حملوں اوربندوق کے زور پر اسلام کے نفاذ کے لئے کارروائیوں کو غیر شرعی اور حرام قرار دیدیا

اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ ادارہ تحقیقات اسلامی کی جانب سے تمام دینی بورڈ اور علماءکرام کے اتفاق رائے سے جاری ہونے والے قومی بیانیے "پیغام پاکستان " نے دہشت گردی ،انتہا پسندی ،خودکش حملوں ،مسلح افواج ،سکیورٹی اداروں پر حملوں،بندوق کے زور پر اسلام کے نفاذ کے لئے کارروائیوں کو غیر شرعی اور حرام قرار دیدیا ہے،ریاست سے باغی مسلح …

اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ ادارہ تحقیقات اسلامی کی جانب سے تمام دینی بورڈ اور علماءکرام کے اتفاق رائے سے جاری ہونے والے قومی بیانیے "پیغام پاکستان ” نے دہشت گردی ،انتہا پسندی ،خودکش حملوں ،مسلح افواج ،سکیورٹی اداروں پر حملوں،بندوق کے زور پر اسلام کے نفاذ کے لئے کارروائیوں کو غیر شرعی اور حرام قرار دیدیا ہے،ریاست سے باغی مسلح عناصر کے خلاف سکیورٹی ادارے بھر پور کارروائی کر کے ملک اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔پیغام پاکستان کے خلاصے کے مطابق دستور پاکستان 1973اسلامی اور جمہوری ہے اور یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان ایسا عمرانی معاہدہ ہے جس کو تمام مکاتب فکر کے علماءو مشائخ کی حمایت حاصل ہے ،اس لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس دستور کی موجودگی میں کسی فرد یا گروہ کو ریاست پاکستان اور اسکے اداروں کے خلاف کسی قسم کی مسلح جدوجہد کا کوئی حق ہے ۔پیغام پاکستان کے مطابق نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی ،لسانی ،علاقائی ،مذہبی ،مسلکی اختلافات اور قومیت کے نام پر تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں احکام شریعت کے خلاف ہیں ۔

مزید خبریں