لاہور۔19جنوری(اے پی پی )ملک کے معروف کالم نویس، مصنف اور ڈرامہ نگار منیر احمد قریشی المعروف منو بھائی طویل علالت کے بعد 84 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے، مرحوم کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کر دیاگیا ۔ منو بھائی گزشتہ کچھ عرصے سے گردوں اور دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث لاہور کے ایک مقامی ہسپتال …
نامور صحافی منو بھائی 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک

مزید خبریں
لاہور۔19جنوری(اے پی پی )ملک کے معروف کالم نویس، مصنف اور ڈرامہ نگار منیر احمد قریشی المعروف منو بھائی طویل علالت کے بعد 84 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے، مرحوم کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کر دیاگیا ۔ منو بھائی گزشتہ کچھ عرصے سے گردوں اور دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث لاہور کے ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ جمعہ کی صبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔منو بھائی نے 6فروری 1933ءکو وزیر آباد میں آنکھ کھولی، 1947ءمیں میٹرک کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک)آ گئے جہاں شفقت تنویر مرزا، منظور عارف اور عنایت الٰہی سے ان کی دوستی ہوئی۔ منیر احمد قریشی کو منو بھائی کا نام احمد ندیم قاسمی نے دیا۔7جولائی 1970ءکو اردو اخبار میں ان کا پہلا کالم شائع ہوا ۔ جس کے بعد انہوں نے مختلف اخبارات میں ہزاروں کالم لکھے۔ غربت، عدم مساوات، سرمایہ دارانہ نظام، خواتین کا استحصال اور عام آدمی کے مسائل منو بھائی کے کالموں کے موضوعات تھے۔ڈرامہ نگاری بھی منو بھائی کی شخصیت کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے سونا چاندی، جھوک سیال، دشت اور عجائب گھر جیسے لازوال ڈرامے تحریر کیے۔پاکستان کے لیے بے پناہ خدمات پر 2007ے میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔







