وزیراعظم کے معاون برائے ریونیو سینیٹر ہارون اختر خان کی ٹیکس ایئر 2016ءکے آڈٹ کےلئے کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ کے افتتاح کے موقع پر گفتگو

اسلام آباد ۔ 12 اپریل (اے پی پی)ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے پانچ سے چھ ارب ڈالر سے زائد کی وصولی متوقع ہے جس سے حسابات جاریہ کے خسارہ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ دنیا کے کئی ممالک میں ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں متعارف کرائی گئیں جو کامیاب رہی ہیں اور اس سے ان ممالک کی حکومتوں کو اپنے وسائل آمدنی میں اضافہ کے حوالے سے مدد ملی ہے۔ ٹیکس …

اسلام آباد ۔ 12 اپریل (اے پی پی)ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے پانچ سے چھ ارب ڈالر سے زائد کی وصولی متوقع ہے جس سے حسابات جاریہ کے خسارہ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ دنیا کے کئی ممالک میں ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں متعارف کرائی گئیں جو کامیاب رہی ہیں اور اس سے ان ممالک کی حکومتوں کو اپنے وسائل آمدنی میں اضافہ کے حوالے سے مدد ملی ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کسی خاص فرد یا طبقے کے لئے نہیں بلکہ اس کا مقصد بیرون و اندرون ملک رکھی گئی جائیدادوں اور رقوم پر ٹیکس وصول کرنا ہے، یہ سکیم ہم سب کے لئے ہے اور اس کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہے۔ جمعرات کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ٹیکس ایئر 2016ءکے آڈٹ کے لئے کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے ریونیو سینیٹر ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو متعارف کرانے سے قبل تجارتی و کاروباری تنظیموں سے طویل مشاورت کی گئی تاکہ سکیم کو کامیاب بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اور عملہ کی کاوشوں سے ٹیکس وصولیوں اور ٹیکس کے نظام میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سکیم کسی خاص طبقہ کے لئے نہیں ہے بلکہ ملک کے مفاد کے پیش نظر متعارف کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیم کی کامیابی سے 10 سے 15 ارب ڈالر ملک میں آئیں گے تو قومی معیشت ترقی کرے گی، ہمیں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سکیم کو کامیاب بنانا ہو گا۔