گذشتہ ماہ افغان صوبہ قندز میں فضائی حملے میں 30 بچے ہلاک ہوئے،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔ 8 مئی (اے پی پی) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ افغانستان کے صوبے قندز میں فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 51 افراد میں 30 بچے شامل تھے۔رواں ماہ اپریل کی 2 تاریخ کو حملے کے بعد افغان حکام نے کہا تھا کہ ان کی فضائیہ نے طالبان کے سینئیر رہنماو¿ں کو نشانہ بنایا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں …

اقوام متحدہ ۔ 8 مئی (اے پی پی) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ افغانستان کے صوبے قندز میں فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 51 افراد میں 30 بچے شامل تھے۔رواں ماہ اپریل کی 2 تاریخ کو حملے کے بعد افغان حکام نے کہا تھا کہ ان کی فضائیہ نے طالبان کے سینئیر رہنماو¿ں کو نشانہ بنایا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ حملے میں نشانہ بننے والے مدرسے کے قریب ہی ہونے والی ایک تقریب میں موجود 6 افراد بھی ہلاک ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ضلع دشت آرچی میں منعقدہ تقریب میں سینکڑوں لڑکے اور آدمی شریک تھے جب ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں راکٹ اور ہیوی مشین گنوں سے حملہ کیا گیا۔یاد رہے کہ ابتداءمیں افغان حکام نے کہا تھا کہ 18 سینیئر جنگجو وہاں حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ حکومت نے طالبان پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں کو مارتے ہیں۔تاہم واقعے کے بعد وہاں موجود ایکعینی شاہد نے بتایا تھا کہ نشانہ بننے والے تمام افراد کو بموں کے ٹکرے لگے جبکہ حکومت نے کہا تھا کہ ہلاکتیں گولیاں لگنے سے ہوئی۔ادھر طالبان نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ حملے کے وقت وہاں کوئی جنگجو تھا بلکہ ان کا کہنا ہے کہ حملے میں 200 شہری ہلاک ہوئے۔

مزید خبریں