فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ کسان دوست پالیسیوں اور مراعاتی پیکجز کے ذریعے پاکستان سالانہ10 ارب ڈالر تک خوراکی درآمدی بل میں بچت کر سکتا ہے۔اتوار کو جاپانی لرننگ سکول کے عثمان اختر سربراہ موراساکی جیپنیز
sکسان دوست پالیسیاں اپنا کر پاکستان غذائی درآمدات پر خرچ ہونے والے 10 ارب ڈالر بچا سکتا ہے، شاہد عمران

مزید خبریں
لاہور۔26اپریل (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ کسان دوست پالیسیوں اور مراعاتی پیکجز کے ذریعے پاکستان سالانہ10 ارب ڈالر تک خوراکی درآمدی بل میں بچت کر سکتا ہے۔اتوار کو جاپانی لرننگ سکول کے عثمان اختر سربراہ موراساکی جیپنیز لرننگ سکول اور نعمان اختر موراساکی کی مشترکہ قیادت میں 30 رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو معیشت میں زراعت کو بنیادی شعبہ قرار دے کر ترجیح دینی چاہیے تاکہ پاکستان زرعی خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ برآمدی ملک بھی بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو سبسڈی، تربیت، معیاری بیج، کھاد، پانی، آسان زرعی قرضے اور منڈیوں تک رسائی دی جائے تو پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔جدید زرعی ٹیکنالوجی، تحقیقاتی اداروں کی مضبوطی اور بہتر اسٹوریج و سپلائی چین سے فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر عثمان اختر نے کہا کہ پاکستان زرخیز زمین، موزوں موسم اور محنتی کسانوں سے مالا مال ہے،مگر جدید طریقہ کار، مناسب امدادی قیمتوں اور معیاری زرعی سہولیات کی کمی کے باعث اب بھی درآمدات پر انحصار کر رہا ہے۔








