اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا 11واں اجلاس پیر کو یہاں کمیٹی کے چیئرمین محمد فاروق ستار کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے یوٹیلٹی سٹورز کی نجکاری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی تجاویز کے باوجود نجکاری کا عمل جاری رکھنا باعث تشویش ہے۔ سیکرٹری نجکاری نے کمیٹی کو بتایا کہ یوٹیلٹی سٹورز کے آپریشنز بند کر دیئے گئے ہیں تاہم 10 تا 11 ہزار ملازمین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ حکومت مختلف سبسڈیز فراہم کر رہی تھی تو یوٹیلٹی سٹورز منافع میں چل رہے تھے تاہم سبسڈیز کے خاتمہ کے بعد کاروبار نقصان میں چلا گیا۔ مزید برآں حکومت ملازمین اور وینڈرز کو 27 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کو دو مراحل میں یقینی بنائے گی ۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ واجب الادا رقوم کی مکمل تفصیل آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ کمیٹی نے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا جبکہ بجلی کا کوئی شارٹ فال نہیں ہے تاہم لوڈ مینجمنٹ پراسس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ اس حوالہ سے بجلی کی زیادہ چوری یا لائن لاسز والے فیڈرز پر لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ پورے فیڈر پر لوڈ شیڈنگ کرنے کی بجائے زیادہ لائن لاسز کا سبب بننے والے فیڈرز یا بجلی چوری میں ملوث صارفین کی بجلی بند کی جائے۔
مزید برآں کمیٹی نے تجویز دی کہ وزیر توانائی اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ ملاقاتیں کرکے ان کے حلقوں میں عوامی اور علاقائی مسائل کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائیں۔ پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پی ای سی او )پر تفصیلی بریفنگ کے بعد کمیٹی نے ہدایت کی کہ حکومت پی ای سی او کے مسائل حل کرے۔ مزید ہدایت کی گئی کہ پہلے مرحلہ میں ادارہ کی بحالی کی کاوشیں جائیں تاہم اگر بحالی ممکن نہ ہو تو نجکاری کے آپشن پر عمل کیا جائے۔ کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ ایم ڈی انیس کے دورانیہ کے دوران غیر قانونی اقدامات کی جانچ پڑتال کی جائے اور اس حوالہ سے کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے۔ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران سیکرٹری نجکاری نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے جس میں مختلف کاروباری اداروں نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ توقع ہے کہ رواں سال کی آخری سہ ماہی میں نجکاری کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل شفاف ہونا چاہئے۔ مزید ہدایت کی گئی کہ نجکاری بورڈ کے اراکین کی لسٹ بھی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک، عبدالقادر خان، صبا صادق، سحر کامران، ارشد عبداﷲ ووہرا، سنجے پروانی، محبوب شاہ، علی اصغر خان، ذوالفقار علیِ، مولانا عبدالغفور حیدری کے علاوہ وزارت نجکاری کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔