ایسٹ بے ایکسپریس وے کا افتتاح سی پیک کے تناظر میں ایک اور سنگ میل ہے، ترجمان دفتر خارجہ

Foreign Office Spokesman
Foreign Office Spokesman

اسلام آباد۔3جون (اے پی پی): دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کے افتتاح کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں ایک اور سنگ میل قرار دیا ہے۔ جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ گوادر اور این 10 مکران کوسٹل ہائی وے کو منسلک کرنے والی واحد ایکسپریس وے ہے جو گوادر پورٹ کے جنوبی اور شمالی فری زونز کو باضابطہ طور پر جوڑتی اور گوادر میں سامان کی تقسیم، درآمد اور برآمد کے لیے ضروری زمینی نقل و حمل میں معاونت کرتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے31 مئی سے 2 جون تک ترکی کا پہلا سرکاری دورہ کیا، یہ دورہ ترکی کے ساتھ ہمارے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، دورے کے دوران وزیر اعظم نے صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ بات چیت کی اور دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان نے کہا کہ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی 6 یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

اس موقع پر دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور تین سال میں دوطرفہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالرکرنے کے عزم کا اظہارکیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ معروف کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل پاکستانی تجارتی وفد نے بھی ترکی کا دورہ کیا، وزیر اعظم نے ترکی کے سرکردہ تاجروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں سے بھی بات چیت کی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں انقرہ میں ترک وزیر خارجہ نے عشائیہ دیا، دونوں وزرائے خارجہ نے مختلف شعبوں میں جاری تعاون سمیت متعدد موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم پاکستان اور ترک صدر نے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر مشترکہ لوگو کی نقاب کشائی بھی کی۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت مستقل انڈس کمیشن کا 118 واں اجلاس 30 اور 31 مئی کو نئی دہلی میں منعقد ہوا جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی سے متعلق وسیع مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ، سیلاب سے متعلق معلومات کی پیشگی اشتراک کا معاملہ، دوروں/معائنوں کا پروگرام اور 31 مارچ کو ختم ہونے والے سال کے لیے مستقل انڈس کمیشن کی رپورٹ پر دستخط بھی بات چیت میں شامل تھا۔ پاکستان نے مغربی دریائوں پر بھارت کے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر اپنے اعتراضات کو بھی اجاگر کیا۔ دونوں فریقوں نے سندھ طاس معاہدے کو اس کی حقیقی روح میں نافذ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ کمیشن کا اگلا اجلاس جلد از جلد پاکستان میں ہوگا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مزید دس کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حریت رہنما محمد یاسین ملک کو ایک انتہائی مشکوک اور متنازعہ مقدمے میں سزا سنانے کے بعد بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل میں اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک خط ارسال کیا ہے جس میں خاص طور پر محمد یاسین ملک کو سزا سنانے کے معاملے کو اجاگر کیا گیا ہے۔