سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر صحافی ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کا از خود نوٹس لے لیا،مقدمے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر صحافی ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کا از خود نوٹس لے لیا ہے اورحکم دیا ہے کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر درج کی جائے۔منگل کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے سے نہ صرف پوری قوم کو صدمہ پہنچاہے بلکہ صحافی برادری میں بے چینی بھی پھیل گئی۔ اس قتل کی عوامی سطح پر مذمت کی گئی، اور عدالت عظمیٰ کو اس معاملے میں مداخلت کرنے اور آئین اور قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں بھیجی گئیں۔

موجودہ عوامی جذبات کومدنظر رکھتے ہوئےچیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کو ضروری انکوائری کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ڈی جی ہیومن رائٹس سیل کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کوچیف جسٹس عمر عطا بندیال نےجسٹس اعجاز الاحسن اورجسٹس محمد علی مظہر کو ان کی رائے کے لیے بھجوایا تھا۔ دونوں معزز ججوں نے اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائرہ اختیار پردرخواست سننے کی سفارش کی۔اسی تناظر میں منگل 6 دسمبر 2022 کو پانچ رکنی بنچ کے سامنے کیس مقرر کیا گیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل بنچ نے منگل کوکیس کی سماعت کی ۔

سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری اطلاعات و نشریات، ڈی جی (ایف آئی اے)، ڈی جی (آئی بی)، صدر پی ایف یو جے، اور اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹسز جاری کیے گئے۔منگل 6 دسمبر 2022 کو سماعت کے اختتام پر عدالت نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی آف پاکستان فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کریں گے۔ ارشد شریف کے قتل کی ایف آئی آر کل عدالت میں پیش کریں گے اورسیکرٹری وزارت خارجہ کل عدالت میں کینیا کی جاری تحقیقات پر رپورٹ پیش کریں گے۔کیس کی سماعت بدھ7 دسمبر 2022 کو دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔