سی پیک فیز دوم،پاکستان کی معیشت، ٹیکنالوجی اور علاقائی روابط کے نئے دور کا آغاز

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے دوسرے مرحلے کا آغاز نئے عزم اور وژن کے ساتھ کیا جا رہا ہے جس کے تحت پاکستان کو جدید، پائیدار اور برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے پانچ اہم راہداریوں پر مشتمل جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے دوسرے مرحلے کا آغاز نئے عزم اور وژن کے ساتھ کیا جا رہا ہے جس کے تحت پاکستان کو جدید، پائیدار اور برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے پانچ اہم راہداریوں پر مشتمل جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔سی پیک فیز دوم کے تحت انوویشن کوریڈور پاکستان کو مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ملک کو ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی معاشی مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔اسی طرح گرین کوریڈور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس اقدام سے پاکستان کی ماحولیاتی لچک اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو مزید تقویت ملے گی۔سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اوپن کوریڈور کے تصور کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے اس منصوبے کے ثمرات خطے کے دیگر ممالک تک پہنچائے جائیں گے، اس اقدام سے علاقائی تعاون، رابطہ سازی، تجارتی سرگرمیوں اور مشترکہ خوشحالی کے وژن کو عملی شکل دینے میں مدد ملے گی۔سی پیک فیز دوم کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ پاکستان اور چین نے اس سٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

منصوبے کے تحت پانچ راہداریوں کے ذریعے پاکستان کی پیداواری اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ اقتصادی نمو، روزگار کے مواقع، عوامی فلاح و بہبود، جدت و ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ اور علاقائی روابط کو فروغ دیا جائے گا۔حکام کے مطابق سی پیک فیز دوم کے تحت خصوصی توجہ پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں پر دی جائے گی تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ یہ مرحلہ پاکستان کی طویل المدتی اقتصادی ترقی، صنعتی توسیع اور علاقائی معاشی انضمام کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

مزید خبریں