ملک سے سمگلنگ کے ناسور کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا گندم، یوریا اور چینی کی سمگلنگ کی روک تھام بارے جائزہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک سے سمگلنگ کے ناسور کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھوں گا،چند کالی بھیڑوں کو ملک کے زرِ مبادلہ اور پاکستانیوں کے حق پر ہر گز ڈاکہ ڈالنے نہیں دوں گا، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے وزیراعظم کی زیر صدارت سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی گئی، وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ …

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک سے سمگلنگ کے ناسور کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھوں گا،چند کالی بھیڑوں کو ملک کے زرِ مبادلہ اور پاکستانیوں کے حق پر ہر گز ڈاکہ ڈالنے نہیں دوں گا، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے وزیراعظم کی زیر صدارت سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی گئی، وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ فوری طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا دورہ کریں اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر متعلقہ افسران کی کارکردگی کی جائزہ رپورٹ پیش کریں،سمگلنگ میں ملوث یا اس کی روک تھام میں سُستی برتنے والے افسران کو برطرف کرکے محکمانہ کارروائی کی جائے،

سمگلنگ کی کوشش کے دوران ضبط شدہ مال کی مکمل جانچ پڑتال کرکے اصل مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے،انسدادِ سمگلنگ عدالتوں کی تعداد اور استعداد کار کو بڑھایا جائے،انسدادِ سمگلنگ عدالتوں میں جلد فیصلے اور کڑی سزائیں یقینی بنائی جائیں،سمگلنگ کے کالے دھندے میں ملوث مل مالکان، ڈیلر اور گودام مالکان سب کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے،سپارکو سمگلنگ کی سرگرمیوں کی سیٹلائٹ نگرانی میں معاونت کرے،سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سرگرم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔

منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک سے گندم، یوریا اور چینی کی سمگلنگ کی روک تھام پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ، سید مرتضیٰ محمود، طارق بشیر چیمہ، مشیرِ وزیرِ اعظم احد خان چیمہ، حساس اداروں کے سربراہان، متعلقہ اعلیٰ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کو ملک کے سرحدی اضلاع اور صوبائی سرحدوں پر جاری انسدادِ سمگلنگ کارروائیوں کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹوں کی تعداد کو بڑھا کر 10کر دیا گیا ہے جبکہ جوائنٹ پٹرولنگ کے حوالہ سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خضدار سے 6 ہزار ٹن سے زیادہ سمگلنگ کی اشیاء قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی تحویل میں لی ہیں،صرف گزشتہ ہفتے میں ہی آپریشن کے دوران ضبط کی جانے والی اشیاء کی مقدار 4342 ٹن ہے جو ٹرکوں کے قافلوں اور گوداموں میں سمگلنگ کی نیت سے موجود تھی۔ اجلاس کو حساس اداروں کی نشاندہی پر سمگلنگ میں سہولت کاری فراہم کرنے والے افسران کی بر طرفی اور شہرت یافتہ افسران کی تعیناتی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

وزیرِاعظم نے سمگلنگ کی روک تھام کیلئے قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کے اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت کے کرم اور حکومت کی کوششوں سے ملک میں گندم کی گزشتہ 10برس کی نسبت سب سے زیادہ پیداوار ہوئی،سیلاب و بارشوں کے باوجود کسانوں کی محنت اور حکومت کی کوششوں سے بھرپور پیداوار پر اس ملک کے عوام کا حق ہے،سمگلروں کو ہر گز اس ملک کے عوام کیلئے مشکلات پیدا کرنے نہیں دوں گا،حکومت آئندہ برس گندم کی رواں سال سے بھی زیادہ پیداوار کیلئے منصوبہ بندی کر رہی ہے،حکومت نے کسانوں کو آئندہ فصل کیلئے یوریا کی بلاتعطل فراہمی کیلئے جامع منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے،

شبانہ روز محنت سے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سے گندم بر آمد کرنے والا ملک بنائیں گے،گندم، یوریا اور چینی کے سمگلروں کے خلاف فوری و سخت کارروائی اور قرار واقعی سزا دی جائے،سمگلنگ میں ملوث کسی بھی فرد کو نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ فوری طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا دورہ کریں اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر متعلقہ افسران کی کارکردگی کی جائزہ رپورٹ پیش کریں۔