وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سیلاب کی صورتحال سمیت تمام اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور کا احاطہ کیا

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سیلاب کی صورتحال سمیت تمام اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور کا احاطہ کیا

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب میں پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور چیلنجز، مسئلہ کشمیر، فلسطین اور اہم عالمی تنازعات، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم، افغانستان کی صورتحال، اسلاموفوبیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سمیت تمام اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور کا احاطہ کیا۔

جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے دنیا کو پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے آگاہ کیا اور دنیا کو بتایا کہ اس تباہی کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ وہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جن کی وجہ ہم نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایسی تباہی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا کا گرم ترین علاقہ بن چکا ہے اور اگر اس مسئلہ پر توجہ نہ دی گئی تو دنیا بھی اس کی لپیٹ میں آئے گی۔ وزیراعظم نے عالمی رہنمائوں کو سیلاب کے بعد پاکستان میں ریسکیو اور ریلیف کے بعد تعمیرنو کے چیلنج سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان کیلئے یہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے وہ تنہا نہیں نمٹ سکتا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو بھی بھرپور طریقے سے اجاگر کیا اور افغانستان کی صورتحال کی جانب بھی دنیا کو متوجہ کیا۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت چکائی ہے۔

وزیراعظم نے اسلاموفوبیا کو عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے بھارت میں 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے پر بھی آواز اٹھائی اور دنیا کو آگاہ کیا کہ بھارت میں انتہاپسند ہندوئوں کی جانب سے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے شام اور یمن سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کے پاکستان کے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 11 نئے غیرمستقل ارکان کی شمولیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ تنازعات کے پرامن حل کیلئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں، بھارت کو جنوبی ایشیا میں امن کیلئے تعمیری بات چیت کرنا ہوگی۔