سندھ میں پاورلومز کی صنعت: روزگار اور معاشی ترقی میں معاون کردار

                                                                                                                   رپورٹ، اللہ داد شیخ صنعتی شعبہ کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی میں …

                                                                                                                   رپورٹ، اللہ داد شیخ
صنعتی شعبہ کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے، پاکستان کے صنعتی میدان میں دیگر کے علاوہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کو نمایاں حیثیت حاصل ہے جو قومی معیشت کی مضبوطی اور روزگار کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ٹیکسٹائل کے شعبہ خاص طور پر چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ صوبہ سندھ کےضلع سانگھڑ کو ٹیکسٹائل بالخصوص پاور لومز کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے، سانگھڑ بہترین ، معیاری اور زیادہ مقدار میں کپاس پیدا کرنے والا ایک بڑا ضلع ہے۔ اس ضلع کے اہم شہر ٹنڈو آدم میں پاور لومز کی گھریلو صنعت گذشتہ 50 سال سے قائم ہے اور ہزاروں افراد اس روزگار سے وابستہ ہیں جس سے نہ صرف لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد مل رہی ہے بلکہ ملک کو قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ بھی حاصل ہورہا ہے۔

پاکستان سمال یونٹس پاور لومز ایسو سی ایشن کے زونل سیکریٹری محمد صابر انصاری نے اس ضمن میں ” اے پی پی “ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے لئے اقدامات سے چھوٹی صنعتوں کے شعبہ میں بہتری آئے گی، لاک ڈاون کے دوران بجلی بلوں کی مد میں 3 ماہ کی رعایت سے ہم فاقہ کشی سے بچ گئے اور اپنے پاوں پر کھڑے ہو سکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کپڑا تیار کرنے کی صنعت اور شعبہ ٹیکسٹائل ملکی معیشت میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے، ضلع سانگھڑ کے شہر ٹنڈو آدم میں 500 سے زائد پاور لومز کے چھوٹے بڑے یونٹ کام کر رہے ہیں، جن میں تقریباّ 7000 کپڑے تیار کرنے کی مشینیں چل رہی ہیں ، ان لومز میں 10 ہزار سے زائد محنت کش افراد یومیہ بنیاد پر مزدوری کرکے اپنے بچوں کے لئے روزی کما رہے ہیں۔

محمد صابر انصاری نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے درآمد کیا ہوا دھاگہ کراچی پہنچتا ہے اور وہ ہم خرید تے ہیں۔یہاں ان مشینوں کے ذریعے پولسٹر، سٹیپل،جارجٹ ، کھادی، کاٹن، سائزنگ اور مچھردانیوں سمیت مختلف اقسام کا ماہانہ 2 کروڑ میٹر خام کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔ وہ کپڑا کراچی اور حیدرآباد بھیجا جاتا ہے جہاں ان کی فنشنگ کی جاتی ہے جس کے بعد وہ کپڑاامریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور دنیا کے دیگر کئی ممالک کو بھی بھیجا جاتا ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صنعتی یونٹس بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتےہیں۔ ماہانہ کم و بیش اڑھائی کروڑ روپے کے بجلی بل باقاعدگی سے حیسکو کو ادا کئے جاتے ہیں۔ لاک ڈاون کے دوران بجلی بلوں کی مد میں 3 ماہ کی رعایت دینے کے اقدام پر وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وفاقی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزراعظم کے اس اقدام سے ہم فاقہ کشی کی صورتحال سے بچ گئے اور اپنے پاوں پر کھڑے ہوسکے ورنہ زبوں حالی کا شکار ہوجاتے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے چھوٹی صنعتوں کی طرف توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے وہ صنعتیں کوئی خاص ترقی نہیں کر سکیں تاہم اب موجودہ حکومت کے مثبت اقدامات سے یہ شعبہ ترقی کرے گا اور ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ کسی بھی ملک سے بے روزگاری کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی طرح پاور لومز کا شعبہ بھی ملک کے اندر روزگار کی فراہمی اور ملکی معیشت کی مضبوطی کا اہم ذریعہ بنا ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹنڈو آدم میں پاور لومز کا شعبہ گذشتہ 50 سال سے 10 ہزار محنت کشوں کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت ٹنڈو آدم کی سب سے بڑی صنعت ہے جس کی وجہ سے ٹنڈو آدم شہر میں بے روزگاری کم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام بلوں کی ادائیگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے بجلی فیڈر کو لوڈشیڈنگ سے فری قرار دیا جائے، دھاگہ کی کمی کے باعث موصولہ آرڈرز بھی پورے نہیں ہو رہے اس معاملہ کی جانب خصوصی توجہ دی جائے، انہوں نے کہا کہا مختلف ٹیکسز کی مد میں بھی مناسب رعایت اور چھوٹ دی جائے تاکہ ہم ملکی معیشت کےفروغ اور مضبوطی میں مزید زیادہ سے زیادہ کردار ادا کر سکیں۔

دریں اثنا پاور لومز کا کہنا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے پیمانہ پر چلنے والی یہ صنعت بڑی تعداد میں افرادی قوت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ، اس سے کئی متعلقہ شعبے بھی ترقی کر رہے ہیں۔ ایک پاور لوم کے مالک ساجد محمود نے بتایا کہ ہمارے شہر میں پاور لومز کے شعبہ میں کم و بیش 80 ہزار مزدور کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا جل رہا ہے، پاور لومز میں تیار ہونے والا کپڑا کراچی، حیدر آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں جاتا ہے، اس کے علاوہ یہ تیار ہونے کے بعد برآمد بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور لومز میں جارجٹ، پولیسٹر، ململ، سٹیپل، کھدر اور مختلف اقسام کا کپڑا تیار کیا جاتا ہے جس کی بڑی مانگ ہوتی ہے۔

ایک اور پاور لوم فیکٹری کے مالک شکیل احمد انصاری نے بتایا کہ ہمارے علاقہ میں چھوٹے بڑے پاور لومز لگے ہوئے ہیں جن میں نہ صرف افرادی قوت کھپ رہی ہے بلکہ کئی اور شعبوں میں بھی کام کرنے کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ، ریڑھی بان سمیت اس صنعت سے وابستہ دیگر شعبے بھی پھل پھول رہے ہیں-

ادھر پاور لومز میں کام کرنے والے محنت کشوں کا کہنا ہے کہ خاندان کی بنیادی ضروریات پورا کرنے سمیت انکے گھر کا چولہا بھی اس صنعت کی بدولت جل رہا ہے۔ اکثر مزدور دہاڑی کی بنیاد پر کام کرتے ہیں ،انہیں 500 سے 700 روپے یومیہ اجرت ملتی ہے۔ محنت کش طبقے کو بلاشبہ اجرت،صحت۔تعلیم سمیت مختلف سہولیات کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں جن کی طرف متعلقہ حکام کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بجا طور پر ٹنڈو آدم سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں قائم پاور لومز نہ صرف روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ بلکہ ملکی معیشت کو تقویت دینے کا باعث بھی ہیں۔