جرمنی غزہ نسل کشی کیس میں قانون کی متعدد خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہا ہے، نکاراگوا

وسطی امریکی ملک نکاراگوا نے نیدرلینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں قائم اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے)میں جرمنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ نسل کشی کیس میں قانون کی متعدد خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔

دی ہیگ۔9ستمبر (اے پی پی):وسطی امریکی ملک نکاراگوا نے نیدرلینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں قائم اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے)میں جرمنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ نسل کشی کیس میں قانون کی متعدد خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔

العربیہ اردو کے مطابق گزشتہ روز نیدرلینڈز میں نکارگوا کے سفیر کارلوس جوز آرگیلو گومز نےدی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں کہا کہ جرمنی نے اسرائیل کی حمایت خاص طور پر اسے اسلحہ فراہم کر کے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نکاراگوا بین الاقوامی قانون کی متعدد خلاف ورزیوں خصوصاً نسل کشی اور بین الاقوامی انسانی قانون کے سلسلے میں جرمنی سے جواب طلبی کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکاراگوا کے دعوئوں میں عمومی بین الاقوامی قانون کے تحت آنے والی ذمہ داریوں کی سنگین ترین خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ممالک کے درمیان قانونی تنازعات پر فیصلہ کرنے والی عدالت پہلے ہی جرمنی کے خلاف ہنگامی اقدامات نافذ کرنے خاص طور پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات روکنے کے لیے نکاراگوا کی درخواست مسترد کر چکی ہے ۔ ایسے معاملات میں عدالت کو فیصلہ سنانے میں اوسطاً چھ ماہ لگتے ہیں، عدالت یا تو جرمنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کیس کو مکمل طور پر خارج کر سکتی ہے یا برلن کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے یعنی پھر کیس کو مزید تفصیل سے شواہد کی بنیاد پردیکھا جائے گا۔