آئین و قانون پر عمل کریں گے،27ویں ترمیم جلد ایوان میں پیش کریں گے ،افغان عبوری حکومت کے ساتھ حالیہ کشیدہ صورتحال کے بعد مذاکرات جاری ہیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا اظہار خیال

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاہے کہ27ویں ترمیم تمام اتحادیوں سے مشاورت کے بعد جلد ایوان میں پیش کریں گے، افغان عبوری حکومت کے ساتھ حالیہ کشیدہ صورتحال کے بعد مذاکرات جاری ہیں، افغان قیادت کو بتا دیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے، متحد ہو کر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاہے کہ27ویں ترمیم تمام اتحادیوں سے مشاورت کے بعد جلد ایوان میں پیش کریں گے، افغان عبوری حکومت کے ساتھ حالیہ کشیدہ صورتحال کے بعد مذاکرات جاری ہیں، افغان قیادت کو بتا دیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے، متحد ہو کر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف کا تقرر ضروری ہے، پارلیمانی جمہوریت ہی مسائل کا حل ہے، یہ ذمہ داری چیئرمین سینیٹ کی ہے، وہ رولز اور طریقہ کار کے مطابق قائد حزب اختلاف کا تقرر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترمیم کے حوالے سے کئی ماہ سے بحث جاری ہے، ایوان میں ترمیم لانا حکومت کا حق ہے، 27 ویں ترمیم جلد ایوان میں پیش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آئین و قانون پر عمل کریں گے ، اراکین کی آرا ء کا احترام کریں گے، اس پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری ہمارے اتحادی ہیں، اتحادیوں سے مشاورتی عمل جاری ہے ،تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے۔ انہوں نے 8عرب اسلامک ممالک کے وزرائے خارجہ کے استبول میں اجلاس میں شرکت کی جس میں غزہ کی صورتحال پر غور کیاگیا اور پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کیاگیا، پاکستان کی غزہ کےلئے 23امدادی کھیپ پہنچ چکی ہیں، ان ممالک کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں کا مقصد غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کا قتل عام رکوانا تھا، اس کے نتیجے میں شرم الشیخ معاہدہ ہوا ، ترکیہ کی دعوت پر استنبول اجلا س میں شرکت کی۔

بعد ازاں سینیٹر عطاء الرحمٰن کے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام وسائل فراہم کئے ہیں، آپریشن ضرب عضب ، آپریشن رد الفساد شروع کئے گئے، 2018 میں ملک سے دہشت گردی ختم ہو چکی تھی، 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت آئی، چار سال میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تجارت اور معیشت نہیں تھی، افغان قیادت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے بات چیت کی، ہمارا ایک مطالبہ تھا کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے راستے ریلوے کے ذریعے کئی ممالک سے منسلک ہو سکتا ہے، اس فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک ہے، ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے، موجودہ افغان عبوری حکومت کے دور میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور شہادتوں میں اضافہ ہوا ہے، 2021 میں پاک-افغان سرحد کھلنے سے پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گرد واپس آئے، ہمیں ماضی کی ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اب مسائل بہت بڑھ چکے ہیں، دوحہ اور ترکیہ میں پاک-افغان مذاکرات جاری ہیں، افغان قیادت کو اب بھی بتا دیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مدارس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے متحد ہو کر کام کرنا چاہئے، بی ایل اے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان افغانستان میں موجود ہیں۔