آئی ایس ایس آئی کے زیرِ اہتمام گول میز مذاکرہ ،مقررین کاجنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی اور علاقائی خوشحالی کیلئے مکالمے اور تعاون کی ضرورت پر زور

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیرِ اہتمام ’’پاکستان اور جنوبی ایشیا: ترقی، شراکت داری اور امن کی جانب‘‘ کے موضوع پر گول میز مذاکرہ منعقد ہوا۔ امریکی وفد کی قیادت عمران شوکت، بانی و چیئرمین جابز گروپ نے کی۔ وفد کے دیگر ممتاز اراکین میں اسکیپ واسکن (چیف ایگزیکٹو آفیسر، انٹرنیشنل سلوشنز)، انتھونی رینزولی (ایسوسی ایٹ پارٹنر، البرائٹ اسٹون برج …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیرِ اہتمام ’’پاکستان اور جنوبی ایشیا: ترقی، شراکت داری اور امن کی جانب‘‘ کے موضوع پر گول میز مذاکرہ منعقد ہوا۔ امریکی وفد کی قیادت عمران شوکت، بانی و چیئرمین جابز گروپ نے کی۔ وفد کے دیگر ممتاز اراکین میں اسکیپ واسکن (چیف ایگزیکٹو آفیسر، انٹرنیشنل سلوشنز)، انتھونی رینزولی (ایسوسی ایٹ پارٹنر، البرائٹ اسٹون برج گروپ)، جون ڈینیلووچ (ایڈیٹر، ساوتھ ایشیا پرسپیکٹیوز)، مورین شوکت (چیف آپریٹنگ آفیسر، یو آر سی)، الزبتھ تھریلکلڈ (سینئر فیلو و ڈائریکٹر، ساؤتھ ایشیا پروگرام، اسٹِمسن سینٹر) اور مائیکل کوگل مین (سابق ڈائریکٹر، ساؤتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ، ولسن سینٹر) شامل تھے۔

اس موقع پر پاکستان اور امریکہ کے سابق سفارتکاروں، ماہرین اور پالیسی تجزیہ کاروں نے جنوبی ایشیا میں ترقی، شراکت داری اور امن کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود نے اپنے ابتدائی خطاب میں موضوع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا بے پناہ اقتصادی امکانات کا حامل خطہ ہے۔ انہوں نے آسيان (ASEAN) کی طرز پر ’’مکالمے کی عادت اور تعاون کی ثقافت‘‘اپنانے پر زور دیا تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی اور علاقائی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سفیر سہیل محمود نے اس موقع پر پاکستان کی جانب سے جامع ترقی اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔عمران شوکت نے آئی ایس ایس آئی کی جانب سے مفید پالیسی مکالمہ منعقد کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملک کے نوجوانوں اور نجی شعبے کو علاقائی اقدامات میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل خود انحصاری، ثقافتی و تجارتی روابط کے فروغ اور آسيان جیسے علاقائی تعاون کے ماڈلز سے سیکھنے میں مضمر ہے۔

مقررین نے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون، رابطہ کاری اور افرادی قوت کی ترقی کے موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے آئی ایس ایس آئی کی اس کاوش کو سراہا کہ ادارہ جنوبی ایشیا کے ابھرتے ہوئے علاقائی تناظر پر بامعنی مکالمے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے۔

اس سے قبل چین-پاکستان اسٹڈی سینٹر (سی پی ایس سی ) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے اپنے استقبالیہ کلمات میں جنوبی ایشیا میں علاقائی ترقی کے نئے امکانات پر زور دیا جبکہ چیئرمین بورڈ آف گورنرز سفیر خالد محمود نے اختتامی کلمات میں مقررین کی آراء کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی ایس ایس آئی علاقائی امن، ترقی اور شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

گول میز مذاکرہ اس اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ جنوبی ایشیا کی ترقی و استحکام کا دارومدار باہمی تعاون، جامع پالیسیوں اور اجتماعی عزم پر ہے، جس کے ذریعے خطے کو درپیش چیلنجز کو امن و ترقی کے مواقع میں بدلا جا سکتا ہے۔