آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پالیسی سازی، قانون سازی اور عملی اقدامات کی ذمہ داریاں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہیں،وزارت خزانہ
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پالیسی سازی، قانون سازی اور عملی اقدامات کی ذمہ داریاں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہیں،وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے پاکستان کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ کی وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ آئی ایم ایف پروگرام محض وزارت خزانہ کا نہیں بلکہ پوری حکومت کا پروگرام ہے،وزارت خزانہ کی ذمہ داری مجموعی پروگرام کی رابطہ کاری ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ بینچ مارکس پر اتفاق کے نتیجے میں پالیسی سازی، قانون سازی اور عملی اقدامات کی ذمہ داریاں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہیں۔ ۔منگل کویہاں جاری بیان میں وزارت خزانہ نے کہاہے کہ 22 ستمبر کوانگریزی روزنامہ میں شائع ہونے والی خبر میں وزارت خزانہ، پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ روابط اور حکومت کے معاشی استحکام کے پروگرام کے حوالے سے بعض ایسے دعوے اور تشریحات پیش کی گئی ہیں جو گمراہ کن ہیں اور حقائق یا ادارہ جاتی طریقہ کار کی درست عکاسی نہیں کرتیں،ایسی رپورٹنگ سے عوام اورشراکت داروں کے درمیان غلط تاثر پیدا ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حقائق کو ریکارڈ پر لایا جائے۔
بیان میں کہاگیاہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کی تشکیل اور مذاکرات پر سخت کنٹرول قائم کر رکھا ہے، پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام جن ادارہ جاتی انتظامات کے تحت چل رہا ہے ان میں مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کے توسیع فنڈسہولت پروگرام اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹیز میں ایسی اصلاحات اور وعدے شامل ہیں جو وزارت خزانہ، منصوبہ بندی کمیشن/وزارت منصوبہ بندی، وزارت توانائی، صوبائی حکومتوں، ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے دائر کار میں آتے ہیں، متعلقہ وزارتیں اور ادارے اپنے اپنے دائر کار سے متعلق تکنیکی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں اور اپنے متعلقہ مینڈیٹ کے تحت بینچ مارکس طے کرنے میں بھی قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں۔
بیان میں کہاگیاہے کہ وزارتِ خزانہ اس بات کو مکمل طور پر تسلیم کرتی ہے کہ معاشی استحکام پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی ونمو کے حصول کا ذریعہ ہے،آئی ایم ایف کے شائع کردہ پروگرام میں بھی واضح طور پر ایسی ڈھانچہ جاتی اصلاحات شامل ہیں جو اقتصادی ترقی کو فروغ دینے، سماجی تحفظ، اسلوب حکمرانی، توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے اور معیشت میں موجود بگاڑ اور عدم توازن کو کم کرنے سے متعلق ہیں۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین سٹاف رپورٹ میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پالیسی مذاکرات کا مقصد ایسی اصلاحات کو تیز کرنا تھا جو مضبوط اقتصادی نمو میں معاون ہوں جبکہ معاشی طورپرکمزور اور مستحق گھرانوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔بیان میں کہاگیاہے کہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کہ وزارت خزانہ نے پٹرولیم لیوی کو آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی نکتہ بنا رکھا ہے، گمراہ کن اورحقائق کے منافی ہے،اس سے پروگرام کی نوعیت کے بارے میں متعلقہ صحافی کی کم سمجھ بوجھ کی بھی عکاسی ہورہی ہے
،پروگرام کی مالیاتی حکمت عملی کہیں زیادہ وسیع ہے جس میں ایف بی آر کی محصولات میں اضافہ، ٹیکس کے دائرہ کار کو وسعت دینا، صوبائی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور اخراجات کو معقول بنانا وغیرہ شامل ہیں،مالی سال 2026-27 کے لیے پروگرام میں خاص طور پر صرف پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس پر انحصار کی بجائے اضافی محصولات حاصل کرنے اور ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے، پٹرولیم لیوی محصولات کے حصول کا صرف ایک ذریعہ ہے اور اسے پروگرام کا مرکزی ستون قرار دینا اس کے کردار کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ پٹرولیم لیوی کی قیمتوں سے متعلق آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں یہ موقف تکنیکی طور پر محدود اور ممکنہ طور پر گمراہ کن ہے ،اگرچہ پروگرام میں پٹرولیم لیوی کی کوئی ایک مستقل بنیادی شرح اس انداز سے مقرر نہیں کی گئی جس طرح تاثر دیا گیا ہے تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی شائع شدہ دستاویزات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیویز سے متعلق واضح تفصیلات موجود ہیں ان میں ملکی ایندھن کی قیمتوں کو عالمی قیمتوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا اور قیمتوں میں باقاعدگی سے ردوبدل شامل ہے۔
ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی کے تحت بھی پٹرولیم لیوی کے فریم ورک کے ذریعے اضافی کاربن لیوی متعارف کرانے سے متعلق ایک مخصوص اصلاحاتی اقدام شامل تھا، لہذا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق پالیسی وزارت خزانہ کی اپنی سطح پریک طرفہ مالیاتی حکمت عملی کی بجائے ۔ طے شدہ پروگرام کے فریم ورک کا حصہ ہے،اسی طرح پٹرولیم لیوی کو براہ راست مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور کم اقتصادی نمو سے جوڑنا بھی تجزیاتی طور پر درست نہیں اور وسیع تر معاشی نتائج کی ذمہ داری ایک ہی مالیاتی ذریعے پر ڈالنے کے مترادف ہے،پاکستان میں مہنگائی اور اقتصادی نمو کے نتائج متعدد عوامل سے متاثر ہوتے ہیں جن میں بالخصوص موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے علاوہ ملکی اور عالمی سطح پر اجناس کی قیمتیں، شرحِ مبادلہ میں اتار چڑھائو، مالیاتی حالات، مالیاتی عدم توازن، بیرونی فنانسنگ کی مشکلات اور عالمی سطح کے مختلف معاشی دھچکے شامل ہیں۔
بیان میں کہاگیاہے کہ پاکستان اس پروگرام میں محدود مالیاتی اور بیرونی وسائل اور نمایاں مالی ضروریات کے ساتھ شامل ہواتھا ،مالیاتی پائیداری کی بحالی ، زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بنانا اور قرضوں کی ری فنانسنگ سے متعلق خطرات کم کرنا پائیدار نجی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری شرائط ہیں ، آئی ایم ایف کے تیسرے جائزے سے متعلق دستاویزات میں بھی درج ہے کہ مالیاتی استحکام کے اقدامات نے معاشی عدم توازن اور طلب کے دباو کو کم کرنے، مہنگائی میں کمی لانے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے ذریعے بیرونی شعبے کے استحکام میں مدد دی جبکہ مجموعی اقتصادی نمو کی بحالی بھی ہوئی۔
بیان کے مطابق وزارت خزانہ نے سماجی تحفظ کے اقدامات کے بغیر مالیاتی استحکام کی پالیسی اختیار نہیں کی، وزارت نے ایسے پروگرام کی حمایت کی جس میں سماجی تحفظ کے لیے واضح کم از کم اخراجاتی حدود اور وعدے شامل ہیں، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہدف پرمبنی نقد معاونت کے اخراجات اور غیر مشروط نقد امداد کی رقم میں مہنگائی کے مطابق اضافہ شامل ہیں ، ہدف پرمبنی ایندھن سبسڈی پروگرام بھی اس امر کی ایک مثال ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران وزیراعظم کی ہدایت پر بجائے ایسی عمومی سبسڈی کے جس سے حکومت پر بھاری مالی بوجھ عائد ہوں معاشی طورپرکمزور اور مستحق گھرانوں کے تحفظ کے لیے ہدفی، عارضی اور مالی طور پر پائیدار اقدامات کیے گئے۔بیان میں کہاگیاہے کہ حکومتی قرض کا انحصار مالیاتی عدم توازن پر ہوتا ہے اور گزشتہ مالی سال میں قرضوں میں اضافہ گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح تک محدود رہا۔
بیان کے مطابق زراعت سے متعلق وعدے صرف وزارت خزانہ کی ذمہ داری نہیں، زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا آئینی اور انتظامی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے، اس لیے اس پر عمل درآمد میں صوبائی حکومتوں کا کردار ناگزیر ہے چنانچہ ان اصلاحات کا جائزہ لیتے وقت وزارتِ خزانہ کی جانب سے پروگرام کی مجموعی رابطہ کاری اور متعلقہ حکومتوں و اداروں کی آئینی و انتظامی ذمہ داریوں کے درمیان واضح فرق ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔بیان میں کہاگیاہے کہ یہ واضح فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری مجموعی پروگرام کی رابطہ کاری ہے جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ بینچ مارکس پر اتفاق کے نتیجے میں پالیسی سازی، قانون سازی اور عملی اقدامات کی ذمہ داریاں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہیں لہذا مناسب پالیسی بحث معاشی استحکام بمقابلہ اقتصادی ترقی کے گرد نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ماضی میں جن مالیاتی اور بیرونی عدم توازن کے باعث پاکستان کو بار بار آئی ایم ایف کے استحکام پروگراموں کی طرف واپس جانا پڑا، ان عدم توازن سے بچتے ہوئے معاشی استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی کی طرف کس طرح منتقل ہوا جائے۔








