آئی ایم سی جی ایف سیون فور میں بی ایس اُردو کے پہلے کانووکیشن کی تقریب، 71 فارغ التحصیل طالبات کو ڈگریاں اور میڈل دیئے گئے

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز ایف سیون فور میں بی ایس اُردو پروگرام کے پہلے کانووکیشن کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں 71 فارغ التحصیل طالبات کو اسناد عطا کی گئیں۔ یہ تقریب کالج کی تعلیمی تاریخ کا اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے، جس نے نہ صرف ادارے کی علمی کاوشوں کو اجاگر کیا بلکہ پاکستان میں معیاری تعلیم کے فروغ …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز ایف سیون فور میں بی ایس اُردو پروگرام کے پہلے کانووکیشن کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں 71 فارغ التحصیل طالبات کو اسناد عطا کی گئیں۔ یہ تقریب کالج کی تعلیمی تاریخ کا اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے، جس نے نہ صرف ادارے کی علمی کاوشوں کو اجاگر کیا بلکہ پاکستان میں معیاری تعلیم کے فروغ کے عزم کو بھی مزید مضبوط بنایا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نیاز احمد تھے جبکہ صدارت پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ عزیز نے کی۔

اس موقع پراساتذہ کرام، والدین اور گریجوایٹ ہونے والی طالبات و دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔تقریب کا سب سے قابلِ فخر لمحہ وہ تھا جب دو طالبات نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4.00 سی جی پی اے حاصل کیا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیے۔ اسی طرح 3.9 سی جی پی اے حاصل کرنے والی ہونہار طالبات کو سرٹیفکیٹ آف میرٹ سے بھی نوازا گیا۔

بی ایس اُردو پروگرام کے قیام اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرنے پر ڈاکٹر نبیلہ سجاد کی خصوصی طور پر تعریف کی گئی۔اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نیازاحمد اخترنے کہا کہ اردو صرف زبان نہیں بلکہ ہماری قومی شناخت، فکری ورثے اور تہذیبی شعور کا بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم خصوصاً اُردو زبان کے معیاری پروگرامز کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نوجوان نسل کو فکری مضبوطی اور علمی خود اعتمادی مل سکے۔پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ عزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئی ایم سی جی ایف سیون فور ہمیشہ سے معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے اور بی ایس اُردو کا پہلا کانووکیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کو نئی سمت دینے کا عزم رکھتا ہے۔

تقریب کا اختتام گروپ فوٹو سیشن اور پرتکلف ظہرانے پر ہوا، جہاں فارغ ہونے والی طالبات، اساتذہ اور والدین نے اس تاریخی لمحے کو بھرپور خوشی کے ساتھ منایا۔یہ دن محنت، لگن، تعلیمی برتری اور ہماری قومی زبان اردو کے فروغ کے نام رہا۔ ایک ایسا دن جو پاکستان کی تعلیمی ترقی کے سفر میں یادگار حیثیت اختیار کر گیا۔