اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) نے اپنے صدر سردار طاہر محمود کی قیادت میں پاکستان کو تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوششوں میں مزید تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے
آئی سی سی آئی وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان کے 5 ارب ڈالر تجارتی وژن کو عملی شکل دینے کے لیے سرگرم،پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے پر عزم ہیں،سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جولائی (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) نے اپنے صدر سردار طاہر محمود کی قیادت میں پاکستان کو تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوششوں میں مزید تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے باہمی تجارت کو 1.4 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے مشترکہ وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا اعادہ کیا ہے۔چیمبر ہاؤس میں ہفتہ کے روز مختلف تجارتی و صنعتی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ آئی سی سی آئی دونوں ممالک کی قیادت کے اس تاریخی ہدف کے حصول کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بہت سے ادارے ابھی اس ہدف پر صرف گفتگو کر رہے ہیں، وہاں آئی سی سی آئی نے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جن میں بزنس ٹو بزنس (بی 2 بی ) ملاقاتیں، مشترکہ منصوبے ، بزنس میچ میکنگ اور پاکستان و ترکیہ کے نجی شعبوں کے درمیان براہِ راست روابط کا فروغ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مفادات کا عالمی سطح پر مؤثر انداز میں تحفظ اور فروغ آئی سی سی آئی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ چیمبر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، برآمدات میں اضافے اور دوست ممالک کے ساتھ پائیدار تجارتی شراکت داری کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔سردار طاہر محمود نے بتایا کہ اسی وژن کے تحت آئی سی سی آئی 13 اگست 2026ء کو استنبول میں پاکستان۔ترکیہ بزنس اپرچیونٹیز کانفرنس اینڈ ایکسیلینس ایوارڈ تقریب کا انعقاد کر رہا ہے، جس کے لیے پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز صنعتکاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد ترکیہ کا دورہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں پاکستان اور ترکیہ کے ممتاز کاروباری رہنما، صنعتکار اور سرمایہ کار ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے تاکہ مشترکہ سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری، دوطرفہ تجارت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنس میں بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں، شعبہ جاتی مذاکرات اور بزنس میچ میکنگ سیشنز منعقد ہوں گے، جن کے ذریعے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ٹھوس تجارتی معاہدوں اور طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ تقریب پاکستان کے سفارت خانے انقرہ، ترکیہ کے سفارت خانے اسلام آباد اور دونوں ممالک کے متعلقہ سرکاری و تجارتی اداروں کے فعال تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔اس موقع پر چیمبر آنے والے کاروباری رہنماؤں نے پاکستان کی معاشی سفارت کاری کے فروغ کے لیے آئی سی سی آئی کی متحرک اور نتیجہ خیز کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان۔ترکیہ بزنس اپرچیونٹیز کانفرنس دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی اور باہمی تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے مشترکہ ہدف کے حصول میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔








