وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کی جانب سے 13 اگست 2026ء کو استنبول میں منعقد کی جانے والی پاکستان۔ترکیہ بزنس اپرچونٹی کانفرنس (بی او سی) کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کانفرنس دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے …
آئی سی سی آئی کی پاکستان۔ترکیہ بزنس اپرچونٹی کانفرنس دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گی، ہارون اختر خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کی جانب سے 13 اگست 2026ء کو استنبول میں منعقد کی جانے والی پاکستان۔ترکیہ بزنس اپرچونٹی کانفرنس (بی او سی) کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کانفرنس دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وفد میں آئی سی سی آئی فائونڈر گروپ کے چیئرمین شیخ طارق صادق، سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر محمد عرفان چوہدری، سابق صدور خالد جاوید، محمد اعجاز عباسی، شیخ عامر وحید، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، عمران منہاس، ذوالقرنین عباسی اور سیکرٹری جنرل غلام مرتضیٰ شامل تھے۔ آئی سی سی آئی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ہارون اختر خان نے آئی سی سی آئی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کی جانب سے اقتصادی سفارت کاری کو فروغ دینے اور ترکیہ کے ساتھ تجارتی روابط کو مستحکم بنانے کے لیے یہ ایک بروقت اور قابل تحسین قدم ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں اپنی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت اس اہم اقدام کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار 25 فیصد تک لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن کاروباری لاگت میں کمی، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاری میں اضافے اور پاکستان کے صنعتی شعبے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریل اور زمینی رابطوں میں بہتری پاکستان کو خطے کا اہم تجارتی مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے تجویز دی کہ آئی سی سی آئی مستقبل میں برطانیہ سمیت دیگر اہم عالمی منڈیوں کے لیے بھی کاروباری وفود کا اہتمام کرے، جس کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
اس موقع پر آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے حکومت کی جانب سے پاکستان۔ترکیہ بزنس اپرچونٹی کانفرنس کی بھرپور سرپرستی پر ہارون اختر خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس پاکستان اور ترکیہ کے سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کو ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی جہاں مشترکہ سرمایہ کاری، جوائنٹ وینچرز اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے پاکستان کے تعمیراتی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ تقریباً 50 ذیلی صنعتوں کا سہارا ہے اور ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا اس کی بحالی کے لیے موثر پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔اس پر ہارون اختر خان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو ذاتی طور پر وزیراعظم کے سامنے اٹھائیں گے اور رئیل اسٹیٹ و تعمیراتی شعبے کے لیے عملی ریلیف اقدامات کی سفارش کریں گے۔
آئی سی سی آئی فائونڈر گروپ کے چیئرمین شیخ طارق صادق نے اسلام آباد کے فلور ملرز کو درپیش مسائل سے معاون خصوصی کو آگاہ کیا جس پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آئندہ منگل کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے پاکستان۔ترکیہ بزنس اپرچونٹی کانفرنس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس کانفرنس میں پاکستان اور ترکیہ کے ممتاز سرمایہ کار، صنعتکار، کاروباری رہنما اور پالیسی ساز شرکت کریں گے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ حاصل ہو گا۔








