اسلام آباد ۔ 13 جولائی (اے پی پی) سول و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ (آئی سی سی پی آر) پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کرنے والی 18رکنی ہیومن رائٹس کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز جینوا میں منعقد ہوا، اجلاس میں پاکستان کی ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر کامران مائیکل پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے جبکہ وفد کے دیگر ارکان میں …
آئی سی سی پی آر پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ بارے ہیومن رائٹس کمیٹی کا اجلاس، پاکستان کی ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 جولائی (اے پی پی) سول و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ (آئی سی سی پی آر) پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کرنے والی 18رکنی ہیومن رائٹس کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز جینوا میں منعقد ہوا، اجلاس میں پاکستان کی ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر کامران مائیکل پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے جبکہ وفد کے دیگر ارکان میں ممبران قومی اسمبلی، یو این جینوا میں پاکستان کے مستقل نمائندہ فرخ عامل، سیکرٹری وزارت انسانی حقوق رانعہ جویریہ آغا اور چیف کمشنر افغان رفیوجیز ڈاکٹر عمران زیب خان شامل تھے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق کمیٹی کے ماہرین نے آئی سی سی پی آر کی توثیق اور معاہدہ پر عملدرآمد کی غرض سے حکومتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے معاہدے پر عملدرآمد کی راہ میں حکومتوں کو درپیش چیلنجوں کو بھی اجاگر کیا۔ وزیر برائے انسانی حقوق کامران مائیکل نے اس موقع پر کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آئی سی سی پی آر انسانی وقار، مساوات اور غیر امتیازی سلوک کے اصولوں کو مقدم رکھے گا جو کسی بھی جمہوری معاشرے کیلئے ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدہ پر عملدرآمد کیلئے کوششیں جاری رکھے گا جو ملک میں جمہوریت کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور بنیادی فریڈمز کیلئے نہایت ضروری ہے۔وفد نے تعمیری مذاکرات پر کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔








