آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات و پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا آئی ٹی شعبے کے سٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس سے خطاب

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ان کی ٹیم کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات و پالیسیوں کا ثمر ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آئی ٹی شعبے …

اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ان کی ٹیم کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات و پالیسیوں کا ثمر ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آئی ٹی شعبے کے سٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس جمعرات کو یہاں منعقد ہوا ۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات و پالیسیوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے آئی ٹی کے شعبے میں تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ موبائل سپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہو گئی جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے ۔

بریفنگ کے مطابق پاکستان میں سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہو گیا۔ جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیئے گئے۔ حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے کی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے ۔ پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرامز جبکہ لیڈرشپ اور سافٹ سکلز کی 2700 ٹریننگز کا انعقاد ہوا ۔بریفنگ کے مطابق ویمن انوویشن اینڈ سٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہو گا ۔

چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کا نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، سٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے ۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزافاطمہ خواجہ، وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔