آئی پی او پاکستان کی دانشورانہ ملکیت اور جامعات و صنعت کے روابط کے فروغ کے لیے کمیٹی قائم

دانشورانہ ملکیت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جامعات و صنعت کے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے دانشورانہ ملکیت کی تنظیم پاکستان (آئی پی او پاکستان) نے ایک اہم کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی 22 ستمبر 2026ء کو آئی پی او پاکستان، یس پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی او آر آئی سیز اور بی آئی سیز سے متعلق ٹاسک فورس کے مشترکہ گول میز اجلاس کی …

اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):دانشورانہ ملکیت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جامعات و صنعت کے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے دانشورانہ ملکیت کی تنظیم پاکستان (آئی پی او پاکستان) نے ایک اہم کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی 22 ستمبر 2026ء کو آئی پی او پاکستان، یس پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی او آر آئی سیز اور بی آئی سیز سے متعلق ٹاسک فورس کے مشترکہ گول میز اجلاس کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔

آئی پی او پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حافظ عزیز الرحمٰن کمیٹی کے کنوینر ہوں گے جبکہ دیگر ارکان میں ایچ ای سی کے چیئرمین کی جانب سے نامزد کردہ نمائندہ، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اکمل، ایف پی سی سی آئی کے صدر یا نامزد نمائندہ، یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین فیصل منظور، گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم، یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر اور ایچ ای سی کمیشن کے رکن پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر وائس ایڈمرل عابد حمید اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یا نامزد نمائندہ شامل ہیں۔

انٹر یونیورسٹی کنسورشیم فار پروموشن آف سوشل سائنسز پاکستان (IUCPSS) کے نیشنل کوآرڈینیٹر محمد مرتضیٰ نور کو کمیٹی کا ممبر سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔کمیٹی دانشورانہ ملکیت کے تحفظ، تحقیقی نتائج کو تجارتی مقاصد کے لیے قابلِ استعمال بنانے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تربیتی پروگراموں اور جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعت کے مابین مؤثر تعاون کے فروغ کے لیے اقدامات کرے گی۔ تعلیمی اور کاروباری حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان میں جدت طرازی، تحقیق کے تجارتی استعمال اور پائیدار جامعات و صنعت شراکت داری کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔