وزیراعظم محمد شہباز شریف نےتیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو ملک کے لئے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے،بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیئے۔
آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے،بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیئے، وزیراعظم شہباز شریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نےتیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو ملک کے لئے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے،بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیئے۔
جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی شرکت کی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے،بہبود آبادی کے اقدامات کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے،بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔
وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔اجلاس کو ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی، بہبود آبادی اور نیشنل پاپولیشن کونسل کے اجلاس کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد بلایا جائے گا جس میں تمام صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، آزادکشمیر کے وزیراعظم اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کے نمائندے اور سٹیک ہولڈرز شرکت کریں گے تاکہ بہبود آبادی کے حوالےسے جامع حکمت عملی ترتیب دی جاسکے،
نیشنل پاپولیشن کونسل سیکریٹریٹ کے آپریٹنگ طریقہء کار کو تیار کر لیا گیا ہے،نیشنل سٹیبلائزیشن پلان 35۔ 2026 تیار کیا جا رہا ہے جس میں آبادی بڑھنے کی رفتار کو کم کرنے کے حوالے سے قومی فریم ورک پیش کیا جائے گا،اس پلان کے تحت آبادی میں اضافے کی شرح کو موجودہ 2.55 فیصد سے کم کر کے 2035 تک 1.25 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا جا رہا ہے،پاپولیشن سٹیبلائیزشن کے نئے فریم ورک کے تحت صحت ، تعلیم ، نوجوان آبادی ، لیبر فورس میں خواتین کی تعداد میں اضافے ، پیشہ ورانہ تربیت اور سماجی تحفظ پر توجہ مرکوز کی جائے گی ،وفاقی حکومت کے سماجی تحفظ کے کئی اقدامات کو بہبود آبادی سے مشروط کرنے کے حوالے سے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔








