اسلامی ممالک سیاحت کے فروغ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں،مذہبی سیاحت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، حافظ طاہر محمود اشرفی

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک سیاحت کے فروغ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو اسلامی دنیا معاشی طور پر مزید مستحکم ہو سکتی ہے،پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے سیاحت کے فروغ کے وسیع مواقع پیدا ہوئے ہیں،مذہبی سیاحت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

لاہور۔23جولائی (اے پی پی):پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک سیاحت کے فروغ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو اسلامی دنیا معاشی طور پر مزید مستحکم ہو سکتی ہے،پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے سیاحت کے فروغ کے وسیع مواقع پیدا ہوئے ہیں،مذہبی سیاحت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ انٹرنیشنل اسلامک ٹورازم نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ نمائش میں سعودی عرب کی اہم ٹورازم کمپنیاں شریک ہیں،جس سے پاکستان اور اسلامی دنیا میں سیاحت کے فروغ کو مزید وسعت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہبی سیاحت کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور ہر سال سکھ، ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے زائرین پاکستان آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں حج و عمرہ کے انتظامات اور سہولیات میں نمایاں بہتری لائی ہے،جو قابلِ تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایمان، عقیدے اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں اور وقت کیساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مصر، پاکستان، ترکیہ، خلیجی ممالک سمیت57 اسلامی ممالک سیاحت کے فروغ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو اسلامی دنیا معاشی طور پر مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل اتحاد و اتفاق میں ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ عالمی تنازعات کا حل مذاکرات میں ہے،امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات بھی بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی امن کیلئے تمام فریقوں کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا دفاع پاکستان کیلئے اہمیت رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں کا احترام عالمی امن کے مفاد میں ہے۔اس موقع پر نمائش کے آرگنائزر عبداللہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی42 کمپنیاں نمائش میں شریک ہیں،جس سے سیاحت اور سفری سہولیات کے فروغ میں مدد ملے گی۔بعد ازاں انہوں نے نمائش کا افتتاح کیا اور مختلف سٹالز کا معائنہ بھی کیا۔