آزاد کشمیر انتخابات، راولپنڈی میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر، مہاجرینِ کشمیر کی تین نشستوں پر پولنگ 2 اگست کو ہوگی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں راولپنڈی، اسلام آباد اور راولپنڈی ڈویژن میں مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر کی تین نشستوں پر 2 اگست 2026 کو پولنگ ہوگی، جس کے پیش نظر انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں

راولپنڈی۔23جولائی (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں راولپنڈی، اسلام آباد اور راولپنڈی ڈویژن میں مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر کی تین نشستوں پر 2 اگست 2026 کو پولنگ ہوگی، جس کے پیش نظر انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے،جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں کارنر میٹنگز، انتخابی دفاتر، عوامی اجتماعات اور گھر گھر رابطہ مہم زور و شور سے جاری ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں مہاجرینِ کشمیر کے لیے تین حلقے ایل اے-43 ویلی-IV، ایل اے-44 ویلی-V اور ایل اے-39 جموں-VI قائم کیے گئے ہیں۔ ان تینوں حلقوں میں مجموعی طور پر 27 ہزار 907 رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 14 ہزار 917 مرد اور 12 ہزار 990 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ایل اے-43 ویلی-IV میں 3 ہزار 346 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں 1 ہزار 750 مرد اور 1 ہزار 596 خواتین شامل ہیں۔ یہ حلقہ مکمل طور پر راولپنڈی شہر کے مہاجرینِ کشمیر پر مشتمل ہے۔ ایل اے-44 ویلی-V میں 3 ہزار 754 ووٹرز ہیں، جن میں 1 ہزار 945 مرد اور 1 ہزار 809 خواتین شامل ہیں۔ اس حلقے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے مہاجرینِ کشمیر ووٹ کاسٹ کریں گے۔ جبکہ ایل اے-39 جموں-VI سب سے بڑا حلقہ ہے، جہاں 20 ہزار 807 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں 11 ہزار 222 مرد اور 9 ہزار 585 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

اس حلقے میں راولپنڈی شہر، پورا راولپنڈی ڈویژن، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں مقیم متعلقہ مہاجرینِ کشمیر کے ووٹرز شامل ہیں۔انتخابی میدان میں مجموعی طور پر 31 امیدوار مدمقابل ہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی اور متعدد آزاد امیدوار اپنی اپنی جماعتوں کے منشور کے ساتھ عوامی رابطہ مہم چلا رہے ہیں۔ راولپنڈی میں کشمیر کالونی، ڈھوک حسو، ڈھوک منگٹال،پیرودھائی، صادق آباد، راجہ بازار، کمیٹی چوک، خیابانِ سرسید، ڈھوک سیداں، شمس آباد، کینٹ کے مختلف علاقوں اور اسلام آباد کے مہاجرینِ کشمیر کی آبادی والے علاقوں میں انتخابی سرگرمیاں نمایاں ہیں۔ امیدوار روزانہ کارنر میٹنگز، برادری کنونشنز، ڈور ٹو ڈور مہم اور انتخابی جلسوں کے ذریعے ووٹرز سے رابطے کر رہے ہیں۔الیکشن کمیشن نے پولنگ کے لیے 15 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں 7 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔ ان مقامات پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی، جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی، واک تھرو گیٹس اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں گے۔ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن کمیشن نے انتخابی سامان کی ترسیل، پریذائیڈنگ افسران اور پولنگ عملے کی تعیناتی، سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔

ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں بھی متحرک ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرینِ کشمیر کی یہ نشستیں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے تناظر میں اہمیت کی حامل ہیں،اس لیے مختلف سیاسی جماعتیں آخری مرحلے میں اپنی انتخابی مہم مزید تیز کر رہی ہیں۔ امیدواروں نے آئندہ چند روز میں بڑے انتخابی جلسوں، ورکرز کنونشنز اور عوامی رابطہ مہم کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھرپور سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔

 

مزید خبریں