روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ ایران کے پاس باب المندب کی صورت میں ’بیک اپ ہتھیار‘موجود ہے ۔ الجزیرہ کے مطابق دیمتری میدویدیف جو روس کے صدر اور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں
آبنائے ہرمز ایران کے لئے سٹریٹجک اثاثہ ہے، دیمتری میدویدیف

مزید خبریں
تہران ۔5جولائی (اے پی پی):روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ ایران کے پاس باب المندب کی صورت میں ’بیک اپ ہتھیار‘موجود ہے ۔ الجزیرہ کے مطابق دیمتری میدویدیف جو روس کے صدر اور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں، ان دنوں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ایران کے دورے پر ہیں۔ دمتری میدویدیف نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک سٹریٹجک اثاثہ ہے، جس کا موازنہ جوہری ہتھیار سے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باب المندب آبنائے یمن، جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان ہے اور خلیج عدن کو بحیرہ احمر اور نہر سویز سے ملاتی ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ وسیع تر علاقائی تنازعہ کی صورت میں باب المندب کے ذریعے جہاز رانی میں خلل پڑ سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا لیکن خطے میں تنازعات کے خواہشمند تمام ممالک کو یہ یاد رکھنا چاہیے۔ یمن میں ایران سے منسلک حوثی باغیوں نے پہلے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی اور 8 جون کو بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔








