اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):منیجنگ ڈائریکٹر سوئی نادرن گیس لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) احمر طفیل نے کہا ہے کہ ہم نے آر ایل این جی کے رہائشی کنکشن کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیا ہے ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد کنکشن لگانے کا عمل شروع کر دیا جائے گا ، پہلے سال 3 لاکھ اور اس کے بعد سالانہ 6 لاکھ کنکشن لگانے کا ہدف مقرر …
آر ایل این جی گھریلو کنکشنز کا آغاز، پہلے سال 3 لاکھ کنکشنز کا ہدف ، ارجنٹ فیس 25 ہزار ،ریگولر 21500 اور 10 مرلے سے زائد کیلئے 23000 روپے فیس مقرر، نئی ہیلپ لائن اور یومیہ مانیٹرنگ سسٹم فعال کر دیا گیاہے، ایم ڈی ایس این جی پی ایل

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):منیجنگ ڈائریکٹر سوئی نادرن گیس لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) احمر طفیل نے کہا ہے کہ ہم نے آر ایل این جی کے رہائشی کنکشن کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیا ہے ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد کنکشن لگانے کا عمل شروع کر دیا جائے گا ، پہلے سال 3 لاکھ اور اس کے بعد سالانہ 6 لاکھ کنکشن لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ، پہلے سے جمع شدہ درخواستوں ، ریگولر اور ارجنٹ کیٹگری میں گیس کنکشن دیں گے ، ارجنٹ فیس 25 ہزار روپے ، 10 مرلہ تک ریگولر فیس 21500 روپے ، 10 مرلے سے زائد 23ہزار روپے کنکشن فیس مقرر کی گئی ہے ، آر ایل این جی فلیٹ ریٹ 3200روپے اور زائد پریشر پر 4100 روپے فلیٹ ریٹ ہوگا ، ایس این جی پی ایل کا ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن خسارہ مجموعی طور پر 5 فیصد ہے جو کہ او جی ڈی سی ایل اور عالمی معیار کے عین مطابق ہے ۔
وہ بدھ کو ایس این جی پی ایل اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ ایس این جی پی ایل اسلام آباد ریجن کے منیجر عدنان احمد ، جی ایم ریگولیٹری افیئرز لیاقت علی ، چیف آفیسر سیلز سہیل احمد کے علاوہ دیگر حکام بھی موجود تھے ۔ ایم ڈی ایس این جی پی ایل احمر طفیل نے پریس کانفرنس سے قبل کسٹمر کئیر سینٹر کا بھی دورہ کیا جہاں پر نئے کنکشنز کے لئے درخواستیں جمع کرانے کے عمل کا بھی جائزہ لیا اور شہریوں سے ایس این جی پی ایل کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات بارے بھی استفسار کیا ۔
ایم ڈی ایس این جی پی ایل احمر طفیل نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 4 سال سے گیس کے گھریلو کنکشن پر عائد پابندی اٹھاتے ہوئے آر ایل این جی کنکشن لگانے کی منظوری دیدی ہے اور وفاقی کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کی ہے، رہائشی کنکشن کے حوالے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا تھا جسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے ایس این جی پی ایل کو ہدایت دی تھی کہ وہ آرایل این جی کنکشن کے حوالے سے اپنا ہوم ورک مکمل کر لے جس کی روشنی میں ہم نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے ،اب ہم آر ایل این جی کا کنکشن لگانے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی کنکشن کے حوالے سے ایس این جی پی ایل اسلام آباد آفس میں پراجیکٹ مانیٹرنگ یونٹ قائم کر دیا گیا ہے اسی کے علاوہ ریجنل دفاتر اور وزارت پیٹرولیم میں بھی مانٹیرنگ یونٹ ہماری کارکردگی کو یومیہ کی بنیاد وں پر مانیٹر کریں گے ۔ ایم ڈی ایس این جی پی ایل نے بتایا کہ شہریوں کی سہولت کے لئے ایک نئی ہیلپ لائن 0800 مختص کر دی گئی ہے ، اس ہیلپ لائن میں وائس ریکارڈنگ بھی موجود ہے جو شہریوں کو نئے کنکشن کے حوالے سے راہنمائی فراہم کریگی ۔
انہوں نے بتایا کہ آر ایل این جی کنکشن میں ترجیح ان صارفین کو دی جائے گی جنہوں نے ڈیمانڈ نوٹ کے ساتھ فیسیں جمع کرائی ہیں ، اس وقت ہمارے پاس دو لاکھ 45 ہزار ایسے صارفین ہیں جنہوں نے فیسیں جمع کرائی ہیں انھیں لیٹر بھجوا دیئے گئے ہیں کہ وہ آر ایل این جی کنکشن کے لئے باقی رقم جمع کرائیں ۔ ایم ڈی ایس این جی پی ایل نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نوسربازوں کے جھانسے میں کسی صورت نہ آئیں، گیس کے نئے کنکشن درخواستوں کی تعداد کے تناسب میں لگیں گے ، ابھی تک ریگولر یا ارجنٹ کنکشن کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا ، صارفین کو اپنی باری آنے پر ہی کنکشن ملے گا ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں سلنڈر کی نسبت آر ایل این جی گھریلو کنکشن کی قیمت 30 فیصد تک کم ہے ، ہم کسی صورت آر ایل این جی کا سوئی گیس کے ساتھ موازنہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں ایس این جی پی ایل کا خسارہ یو ایس جی کا 9 فیصد تھا لیکن ہمارے ٹیم ورک کی بدولت یہ خسارہ 5 فیصد تک آچکا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے اپنے ملک کے اندر سے نکلنے والی گیس ہماری ضرورتوں سے بہت کم ہے ، ماضی میں قطر سے پاور سیکٹر کو فراہم کرنے کےلئے معاہدے کے تحت گیس منگوانے کا عمل شروع کیا گیا تھا جو کہ 2031 تک جاری رہے گا لیکن کچھ ہی وقت کے بعد پاور سیکٹر نے آر ایل این جی لینی بند کر دی اور متبادل ذرائع استعمال کرنا شروع کر دیئے جس کے بعد ہمارے پاس آر ایل این جی وافر مقدار میں موجود ہے جو اب گھریلو صارفین کو دے رہے ہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی کنکشن ڈی ایچ اے سمیت ملک بھر میں قائم تمام قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں، ملک کے شہری اور دیہی علاقوں کو دیئے جائیں اس میں کوئی تفریق نہیں ہوگی ،پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر کنکشن ملیں گے ۔








