اجر اور کاروباری برادری نے حکومت کی جانب سے چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے مؤثر اور محتاط عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آر سی سی آئی کاتاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا خیرمقدم، مؤثر عملدرآمد پر زور

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 06 جون (اے پی پی):تاجر اور کاروباری برادری نے حکومت کی جانب سے چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے مؤثر اور محتاط عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
حکومت نے سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروباری حجم رکھنے والے تاجروں کے لیے ایک فیصد فکسڈ ٹیکس کی اسکیم متعارف کرائی ہے۔راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے صدر عثمان شوکت نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکیم تاجروں سے تفصیلی مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے اور ان کی تجاویز کو شامل کرنا خوش آئند اقدام ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر عملدرآمد پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے ریٹیلرز اس اسکیم سے استفادہ کر سکیں گے، جبکہ باہمی مشاورت سے حد مقرر کرنے سے تاجروں کا اعتماد بڑھے گا۔ ان کے مطابق ایک فیصد فکسڈ ٹیکس نسبتاً آسان اور قابلِ عمل شرح ہے، تاہم اس کے نفاذ کو مکمل طور پر شفاف بنایا جانا چاہیے تاکہ تاجروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔عثمان شوکت نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت کاروباری برادری کے لیے ریلیف ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس پر درست طریقے سے عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے تاجروں کو آگاہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ ریٹرن جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانا لازم ہوگا تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے تحت اردو اور علاقائی زبانوں میں ایک سادہ ایک صفحے پر مشتمل فارم تیار کیا گیا ہے، جسے موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے بھی جمع کرایا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم کو آسان بنانا تاجروں کا دیرینہ مطالبہ تھا، تاہم ڈیجیٹل طریقے سے فارم جمع کرانے کے لیے تکنیکی معاونت اور رہنمائی بھی فراہم کی جانی چاہیے۔صدر آر سی سی آئی نے مزید کہا کہ رجسٹرڈ تاجروں کو ایف بی آر رجسٹریشن پلیٹ جاری کی جائے گی، جو دکان کے باہر آویزاں کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ٹیکس حکام کی غیر ضروری مداخلت میں کمی آئے گی اور تاجروں کا اعتماد بحال ہوگا۔دریں اثنا، مرکزی انجمن تاجران راولپنڈی کے صدر ملک شاہد غفور پراچہ نے کہا کہ چھوٹے تاجروں کے لیے نئی پالیسی اصولی طور پر مثبت ہے، تاہم اس کے حقیقی اثرات وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آئیں گے، خاص طور پر اگر عملدرآمد کے دوران اضافی شرائط عائد نہ کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ٹیکس ادا کرنے اور قومی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ایک سادہ اور شفاف نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے اردو اور دیگر زبانوں میں فارم کی دستیابی اور آسان رجسٹریشن کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے اور بڑے بازاروں کے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔شاہد غفور پراچہ نے خبردار کیا کہ ماضی میں اکثر مسائل عملدرآمد کے مرحلے پر سامنے آئے، جب نئی شرائط شامل کر دی گئیں۔ انہوں نے وزیر خزانہ اور متعلقہ حکام پر زور دیا کہ اسکیم کو اس کی اصل سادہ شکل میں برقرار رکھا جائے اور بیوروکریٹک مداخلت سے گریز کیا جائے۔ادھر سینئر تاجر رہنما شرجیل میر نے بھی اسکیم کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے تاجروں کو پالیسی سازی میں شامل کرنے کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اردو اور دیگر زبانوں میں فارم کی فراہمی سے زیادہ سے زیادہ تاجر باآسانی اس نظام کا حصہ بن سکیں گے۔تاہم انہوں نے ایک فیصد ٹیکس شرح پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے چھوٹے تاجر انتہائی کم منافع پر کاروبار کرتے ہیں۔ اگر کسی تاجر کا منافع صرف ایک یا دو فیصد ہو تو کاروباری حجم پر ایک فیصد ٹیکس اس کی آمدنی کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ٹیکس شرح میں کمی سے ریڑھی بانوں، کریانہ اسٹور مالکان اور دیگر چھوٹے تاجروں کی زیادہ شمولیت ممکن ہو سکے گی۔شرجیل میر نے رجسٹریشن یا ریٹرن فائلنگ سے منسلک 25 ہزار روپے کی شرط پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے چھوٹے تاجروں پر اضافی مالی بوجھ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک آسان اور صارف دوست موبائل ایپلی کیشن تیار کی جائے، جس کے ذریعے تاجر باآسانی ریٹرن فائل کر سکیں، آمدنی ظاہر کر سکیں اور ٹیکس ادا کر سکیں، جس سے ٹیکس نیٹ میں شمولیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔







