اسلام آباد۔ 14 مارچ (اے پی پی):آئینی و بین الاقوامی قوانین کے ماہر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ اظہار ایک بنیادی آئینی حق ہے تاہم اسے آئین میں طے کردہ حدود اور قومی مفادات کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال کرنا ضروری ہےخصوصاً ایسے معاملات میں جو پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو متاثر کر سکتے ہوں۔ماہر آئینی …
آزادیٔ اظہار آئینی حدود اور قومی مفادات کے ساتھ مشروط ہے، آئینی و قانونی ماہر حافظ احسان کھوکھر کی بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 14 مارچ (اے پی پی):آئینی و بین الاقوامی قوانین کے ماہر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ اظہار ایک بنیادی آئینی حق ہے تاہم اسے آئین میں طے کردہ حدود اور قومی مفادات کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال کرنا ضروری ہےخصوصاً ایسے معاملات میں جو پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو متاثر کر سکتے ہوں۔ماہر آئینی و بین الاقوامی قانون اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے’’ اے پی پی ‘‘کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آزادیٔ اظہار کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی اساس ہے جو شہریوں کو اپنے خیالات کے اظہار، حکومتی پالیسیوں پر تنقید اور قومی امور پر کھلے مباحثے کا حق فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا آئین آزادیٔ اظہار کو ایک مطلق اور غیر محدود حق قرار نہیں دیتا بلکہ اس پر قانون کے ذریعے معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
ان پابندیوں کا مقصد اسلام کی عظمت، پاکستان کی سلامتی و سالمیت، امنِ عامہ، شائستگی و اخلاقیات، توہین عدالت اور جرم کے ارتکاب یا اس کی ترغیب کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دوست غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا تحفظ ہے۔حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق پاکستان دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی، معاشی اور تزویراتی شراکت داری رکھتا ہے، اس لیے اگر کسی دوست ملک کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات یا غلط معلومات پھیلائی جائیں تو اس سے پاکستان کی سفارتی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور غیر ضروری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین میں موجود یہ شق جائز تنقید یا علمی و صحافتی مباحثے کو نہیں روکتی بلکہ اس کا مقصد صرف ایسے غیر ذمہ دارانہ اظہار کو روکنا ہے جو دانستہ طور پر پاکستان کے سفارتی مفادات کو نقصان پہنچائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس امر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کہ عوامی مباحث حقائق پر مبنی اور ذمہ دارانہ ہوں۔ پاکستان کے مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کے ساتھ مضبوط سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں جبکہ لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان بھی مختلف فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ آزادیٔ اظہار کو آئینی حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو بنام وفاقِ پاکستان (PLD 1988 SC 416) اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن بنام پیمرا (PLD 2016 SC 692) کے مقدمات میں عدالت عظمیٰ نے بنیادی حقوق کے ساتھ آئینی پابندیوں کے اصول کو تسلیم کیا۔حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق دنیا کے دیگر جمہوری ممالک میں بھی آزادیٔ اظہار اور ریاستی مفادات کے درمیان توازن کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے آئین، یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق میں بھی اظہارِ رائے پر قومی سلامتی اور عوامی مفادات کے تحت بعض پابندیوں کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بیانات بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، اس لیے صحافیوں، تجزیہ کاروں، وکلا، اساتذہ اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ اظہارِ رائے کو ذمہ داری اور آئینی شعور کے ساتھ استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوری پختگی صرف آزاد اظہار میں نہیں بلکہ ذمہ دارانہ اظہار میں مضمر ہوتی ہے، اور جب آزادیٔ اظہار آئینی اصولوں اور قومی مفادات کے مطابق استعمال کی جائے تو یہ جمہوریت کو مضبوط اور پاکستان کے عالمی وقار کو مستحکم کرتی ہے۔








